ٹمبکٹو میں ثقافتی ورثے کی تباہی کا ملزم عالمی عدالت میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مالی کے شہر ٹمبکٹو میں ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ایک مشتبہ شدت پسند کو جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

احمد الفقی المہدی جنگی جرائم کے ملزم ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سال 2012 میں ٹمبکٹو میں نو مزاروں اور ایک قدیم مسجد کو تباہ کیا تھا۔

ٹمبکٹو میں تاریخی زیارت گاہ پر حملوں کی تصاویر

ٹمبکٹو: مزاروں کی تعمیر نو، ’جنگی جرائم کا مقدمہ چلائیں گے‘

جرائم کی عالمی عدالت یعنی آئی سی سی نے احمد الفقی الہمدی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے جس کے بعد نائجر نے انھیں آئی سی سی کے حوالے کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹمبکٹو کا پورا شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے قرار دیا ہوا ہے

اسلامی شدت پسندوں نے ٹمبکٹو پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں فرانس کی سکیورٹی فورسز نے انھیں 2013 میں شہر سے نکال دیا تھا۔ احمد الفقی المہدی کی پیشی سے پہلے آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بدھ کو ابتدائی سماعت میں مشتبہ شدت پسندوں کو ان پر عائد کردہ الزامات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جج ان کی شناخت کریں گے اور زبان کی تصدیق کریں گے جس سے وہ عدالتی کارروائی کے بارے میں جان سکیں گے۔

Image caption ٹمبکٹو 13 ویں سے 17 ویں صدی تک اسلامی علوم کی اہم درسگاہ رہی ہے

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ آثار قدیمہ اور مذہبی عمارتوں کو تباہ کرنے کا مقدمہ پہلی بار جرائم کی عدالت میں لایا گیا ہے۔

احمد الفقی الہمدی مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک انصار داعین گروہ کے رکن تھے اور اس گروپ نے سال 2012 میں مالی کے شمال میں واقع زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والی کئی تاریخی عمارتوں کو بحال کر دیا گیا ہے

مبینہ طور پر وہ گروپ کے’حسبہ‘یا شہریوں کےطرز زندگی پر نظر رکھنے والی خود ساختہ بریگیڈ کے سربراہ تھے اور اس بریگیڈ کے ذمے ٹمبکٹو پر قبضے کے دوران اسلامی قوانین پر عمل درآمد کرانا تھا اور وہ اس عدالت کا بھی حصہ تھے جو شہریوں کو پھانسی کی سزائیں دیتی تھی۔

ٹمبکٹو کے پورے شہر کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہوا ہے۔ ٹمبکٹو 13 ویں سے 17 ویں صدی تک اسلامی علوم کی اہم درسگاہ رہی ہے۔

ایک وقت ایسا بھی تھا جب اس شہر میں 200 سکول اور یونیورسٹیاں تھیں اور مسلمان ممالک سے لوگ یہاں علم حاصل کرنے آتے تھے۔

اسی بارے میں