’بارشوں کی شدت ایک ہزار سال میں ہونے والی بارشوں سے زیادہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موسلا دھار بارشیں کیریبیئن میں شدید سمندری طوفان جوکن سے منسلک خراب موسم کے باعث شروع ہوئیں

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کی گورنر کا کہنا ہے کہ ریاست کے مختلف حصوں میں ہونے والی بارشوں کی شدت ایک ہزار سال میں ہونے والی بارشوں سے زیادہ ہے جبکہ سیلاب کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تاریخی شہر چارلسٹن میں تین روز کے دوران 35 سینٹی میٹر (13 انچ) سے زیادہ بارش پڑ چکی ہے۔

سکول پیر کو بند رہیں گے اور بارش کے باعث متعدد بین الریاستی شاہراہیں بند ہو چکی ہیں۔

موسلا دھار بارشیں کیریبیئن میں شدید سمندری طوفان جوکن سے منسلک خراب موسم کے باعث شروع ہوئیں۔

طوفان کے باعث مشرقی امریکہ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے لیکن اس میں موجود نمی کے باعث شدید بارشوں کا امکان ہے۔

جنوبی کیرولائنا کی گورنر نیکی ہیلی نے اتوار کو کہا کہ ’ایک ہزار سال سے اس نوعیت کی بارش نہیں دیکھی گئی۔ یہ بہت شدید نوعیت کی بارشیں ہیں۔‘

ہیلی نے مکینوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پانی محفوظ نہیں ہے اور ریاست کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کی زد میں ہے۔ اس پانی میں جراثیم ہیں، اس لیے سب اپنے گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔‘

صدر براک اوباما نے جنوبی کیرولائنا میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اور مقامی حکام سیلاب سے نمٹنے کے لیے وفاقی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔

جارج ٹاؤن کے علاقے کی ترجمان جیکی بروچ نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’علاقے میں ہر جگہ امداد کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا جواب دینے ایمولینسیں موجود ہیں۔ لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے اُن کے گھروں سے منتقل کیا جا رہا ہے۔‘

ہفتے کی رات سیلابی پانی میں گھری سڑکوں پر کاروں میں پھنسے سو کے قریب لوگوں کو نکالا گیا۔

تاریخی شہر چارلسٹن کے مرکز میں بہت سی سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے ہر جگہ ریت سے بھری بوریاں رکھ دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں