’پہلی بار دنیا کی 10 فیصد سے کم آبادی شدید افلاس کی زد میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی افریقی ممالک میں ابھی بھی دنیا کے نصف غریب ترین لوگ آباد ہیں

عالمی بینک نے کہا ہے کہ دنیا میں انتہائی غربت کی سطح میں کمی آئی ہے اور سنہ 2015 کے اختتام پر پہلی بار دنیا کی 10 فیصد سے کم آبادی ہی شدید افلاس کی سطح سے نیچے ہوگی۔

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ اس نے انتہائی غربت کا نیا پیمانہ بنایا ہے جو کہ سوا ڈالر سے بڑھ کر 1.9 ڈالر کر دیا گیا ہے۔

اس نے پیش گوئی کی ہے کہ سنہ 2012 میں انتہائی افلاس میں رہنے والے 12.8 تھے جو کہ کم ہو کر 9.6 فی صد رہ جائیں گے۔

تاہم اس نے کہا ہے کہ جنوبی افریقی ممالک میں افلاس زدہ لوگوں کی زیادہ تعداد میں ہونا ’تشویشناک ہے‘۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں بھی افلاس زدہ لوگوں میں سنہ 2015 کے اختتام تک کمی آئے گی اور یہ 42.6 سے کم ہو کر 35.2 فی صد رہ جائے گی۔ اس کے باوجود اس خطے میں دنیا کے تقریباً نصف غریب آباد ہوں گے۔

Image caption مشرق وسطی اور جنگ زدہ علاقوں کے قابل اعتماد اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں

ورلڈ بینک کے صدر جم یونگ کم نے کہا ’تاریخ عالم میں ہم پہلی نسل ہوں گے جو شدید غربت و افلاس کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شدید افلاس میں کمی ترقی پزیر ممالک کی ترقی کی شرح، تعلیم، صحت، سماجی سکیورٹی میں سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔‘

تاہم یونگ کم نے متنبہ کیا ہے کہ سست رفتار عالمی اقتصادی ترقی، غیر مستحکم بازار، جنگوں، نوجوانوں میں بے روزگاری کی زیادہ شرح اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے نتیجے میں شدید افلاس میں کمی کی شرح کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔

مختلف خطوں کے بارے پیش گوئی کرتے ہوئے عالمی بینک نے مشرقی ایشیا اور پیسفک خطے کے بارے میں بتایا کہ یہاں شدید افلاس سنہ 2012 کے 7.2 فی صد سے کم ہو کر 4.1 فی صد رہ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی صورت حال میں بہتری آئی ہے

لاطینی امریکہ اور کریبیائی ممالک کے بارے میں بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اسی مدت میں شدید افلاس 6.2 سے کم ہوکر 5.6 فی صد رہ جائے گی۔

جنوبی ایشیا میں یہ سنہ 2012 میں 18.8 سے کم ہوکر سنہ 2015 کے اختتام پر 13.5 فی صد رہ جائے گی۔

اس نے کہا ہے کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے جنگ زدہ علاقوں سے قابل اعتماد اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔

اسی بارے میں