’برطانیہ کو ہر سال لاکھوں مہاجرین بلانےکی ضرورت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹیریسا مے اپنی تقریر میں او ای سی ڈی اور ہاؤس آف لارڈ کی معاشی کمیٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیں گی

برطانیہ کی وزیر داخلہ ٹیریسا مے کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مربوط معاشرے کی تشکیل مشکل ہو گئی ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کی کانفرنس میں تھریسا مے کہیں گی کہ برطانیہ کو ہر سال لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کو بلانےکی ضرورت نہیں ہے۔

برطانیہ آنے والے مہاجرین کی تعداد نے کئی سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

لندن کے میئر بورس جانسن بھی پارٹی سے خطاب کریں گے جن کا کہنا ہے کہ کم آمدنی والے افراد کی فلاح کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

ٹیریسا مے کی تقریر میں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ ’معاشی خوشحالی کے لیے ہجرت کرنے والوں کا آنا بالکل بجا ہے، لیکن ان کے حالات ان لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، جو اپنی زندگی کی بقا کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر یہاں آ رہے ہیں۔

’ہمیں معلوم ہے کہ غریب ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو برطانیہ میں رہنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن کوئی بھی ملک ایک حد تک مہاجرین کو بلا سکتا ہے، یا بلانا چاہیے۔‘

’جہاں ہمیں انتہائی ضروت مند لوگوں کی مدد کرنے کی اخلاقی ذمہ داری پوری کرنی ہے، وہیں ہمیں ایک ایسے نظام کی بھی ضرورت ہے جس کے تحت ہمیں یہ جاننے کا اختیار ہو کہ ہمارے ملک میں کون آ رہا ہے۔‘

وزیر داخلہ مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب سماجی بہبود کے بنیادی ڈھانچے پر پڑنے والے دباؤ کے بارے میں بھی متنبہ کریں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہر سال مہاجرین کی تعداد کو ایک لاکھ کے اندر رکھنے کے مقصد سے دستبردار نہیں ہوں گے

’مہاجرین کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے آبادی میں تبدیلی کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے، جس کے نتیجےمیں مربوط معاشرے کی تشکیل ناممکن ہو جاتی ہے۔

’اس سے پھر سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کے دیگر اہم امور جیسے رہائش اور نقل و حمل کے مسائل کا آبادی کی رفتارکے ساتھ مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ کم تنخواہ پر کام کرنے والوں کی تنخواہیں مزید کم ہو گئی ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو تو نوکری سے ہی فارغ کر دیا گیا ہے۔‘

ٹیریسا مے کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہجرت کے نتیجےمیں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کر بھی لیتے ہیں، تب بھی برطانیہ کو ہر سال اتنے مہاجرین کی ضرورت نہیں ہے۔‘

وہ اپنی تقریر میں او ای سی ڈی اور ہاؤس آف لارڈ کی معاشی کمیٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ بھی دیں گی جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بھاری تعداد میں مہاجرین کی آمد کے معاشی اور مالیاتی فوائد صفر سے زیادہ نہیں ہیں۔

’ اس لئے کسی بھی وجہ سے یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے کہ ہم ہر سال اتنے بڑے پیمانے پر مہاجرین کو بلائیں جیسا کہ ہم گذشتہ ایک دہائی سے کر رہے ہیں۔‘

گذشتہ سال برطانیہ میں تین لاکھ 18 ہزار اضافی مہاجرین آئے جو ہر سال ہجرت کرنے والوں کی تعداد کا 50 فیصد ہے۔ ان مہاجرین کا تعلق یورپی یونین اوراس کے باہر کے ملکوں سے ہے۔

برطانیہ کے قومی اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں چھ لاکھ 41 ہزار لوگ برطانیہ میں داخل ہوئے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی کہا ہے کہ وہ ہار نہیں مانیں گے، اور برطانیہ میں ہر سال مہاجرین کی تعداد کو ایک لاکھ کے اندر رکھنے کے مقصد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں