موٹے لوگوں کا ملک

Image caption ملک کے عوام میں موٹاپا بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل میں واقع ملک ٹونگا کے تقریباً تمام سرکاری اہلکار موٹے ہیں۔

ریڈیو نیوزی لینڈ انٹرنیشنل کے مطابق ملک کے مرکزی جزیرے پر واقع سب سے بڑے ہسپتال کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے مطابق ملک کے 94 فیصد سرکاری ملازمین موٹاپے کا شکار ہیں۔

ایک مقامی اخبار ٹونگا ڈیلی نیوز کا کہنا ہے کہ اس سال کے اوائل میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 88 فیصد خواتین اور 83 فیصد مرد موٹے ہیں، جس کی وجہ سے ٹونگا کو موٹے لوگوں کے ملک کا خطاب دیا گیا ہے۔

اس مسئلے کے بارے میں عوام میں اچھی صحت کی آگاہی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہسپتال کے شعبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ملک کے سرکاری ملازمین کو اپنے رہن سہن اور کھانے کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔‘

لیکن کوئی ان کی بات پر دھیان دیتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ لوگوں میں موٹاپا پیدا کرنے والی غذا کھانے کے رحجان میں کمی نہیں آ رہی۔

ملک کے عوام میں موٹاپا بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

سنہ 2011 میں خبر رساں ادارے اے ایف پی نے خبر دی تھی کہ ملک میں لوگوں کی خوراک اپنے آبا و اجداد کی خوراک کے برعکس ایسے کھانوں پر مشتمل ہے جن سے موٹاپے میں اضافہ ہوتا ہے۔

چکنائی والی خوراک کی وجہ سے ملک کی بڑی آبادی عارضہ قلب اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا شکار ہے۔

ٹونگا ڈیلی نیوز کے مطابق لوگوں میں موٹاپے کے خاتمے کے لیے لگاتار کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق اس سلسلے میں لوگوں کے لیے مفت ورزش اور تن سازی کی کلاسوں کے علاوہ خواتین کے کے لیے نیٹ بال کے ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی کیا جا چکا ہے۔

اخبار لکھتا ہے: ’تاہم ورزش کی کمی اور چکنائی سے بھرپور کھانوں کی عادت ملک کے موٹے لوگوں کے لیے نفسیاتی چیلنج ہے۔‘

اسی بارے میں