’دولتِ اسلامیہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسٹرڈ گیس جلد کو جلاتی ہے اور شدید نظام تنفس کے مسائل پیدا کرتی ہے۔

کرد حکام کا کہنا ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسندوں نے شمالی عراق کے کرد پیشمرگا اہلکاروں پر مسٹرڈ ایجنٹ (زہریلی گیس) پر مشتمل مارٹر گولے داغے۔

پیشمرگا امور سے متعلق وزارت کے مطابق 35 اہلکاروں کے خون کے نمونوں میں سلفر مسٹرڈ (مہلک گیس) کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا پیشمرگا اہلکاروں میں سے کوئی اس حملے کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوا۔

مسٹرڈ گیس جلد کو جلاسکتی ہے اور اس کے نظامِ تنفس پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت مسٹرڈ گیس پر پابندی عائد ہے۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی گیس کا یہ واقعہ عراق کے شمالی علاقوں مکھمور اور گویر کے قریب اگلی سرحدوں پر پیش آیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے میں تقریباً 37 مارٹر گولے داغے گئے۔ ’جن سے سفید دھواں اور سیاہ رنگ کا ایک سیال مادہ بہہ رہا تھا۔‘

وزارتِ داخلہ نے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خود کو دولتِ اسلامیہ (آئی ایس) کہلانے والی تنظیم کے خلاف جنگ کرنے والے پیشمرگا اہلکاروں کو کیمیائی حملوں سے بچاؤ کے لیے ہتھیار فراہم کریں۔ امریکہ سمیت بہت سے ممالک کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو پہلے ہی فوجی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کلورین گیس

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ دولتِ اسلامیہ پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مارچ میں بھی عراقی کردستان کے حکام نے کہا تھا کہ ان کے پاس دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کلورین گیس استعمال کے متعلق ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

کردستان کے علاقے کی سلامتی کونسل کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ دولتِ اسلامیہ عراقی سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف غیر معیاری کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم کے ڈائریکٹر نے بھی اگست میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ممکنہ طور پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے متعلق ’شدید خدشات‘ کا اظہار کیا تھا۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے پیچھے موجود عناصر کی شناخت کے سلسلے میں ایک قرارداد مننظور کی گئی ہے۔

دولتِ اسلامیہ پہلے ہی عراقی فوج کے روایتی ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے اسلحہ خانہ پر قبضہ کر چکی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر امریکہ کے تیار کردہ تھے۔

سابق صدر صدام حسین کی ماتحت عراقی فوج کی جانب سے سنہ 1988 میں عراقی کرد اہم کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا نشانہ بنے تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔