دولت اسلامیہ کے پاس ٹویوٹا گاڑیاں کہاں سے آئیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹیوٹا کی گاڑیوں پر بھاری مشین گنیں بھی آسانی سے لگا لی جاتی ہیں

گاڑیاں بنانے والی جاپانی کمپنی ٹویوٹا نے امریکی حکام سے اس معاملے پر بات چیت کرنے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ اس کے پاس اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے جنگجووں کے پاس لیبیا، عراق اور شام میں اتنی بڑی تعداد میں اس کی بنائی ہوئی گاڑیاں کہاں سے آئیں۔

شام اور عراق میں جاری لڑائی میں ٹویوٹا کمپنی کی گاڑیاں بہت بڑی تعداد میں استعمال کی جا رہی ہیں اور اکثر اوقات دولت اسلامیہ کے جنگجو ان گاڑیوں پر نصب اپنے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملے کرتے ہیں۔

ٹویوٹا کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی ہے کہ وہ یہ گاڑیاں ایسی تنظیموں کو نہ بیچیں جو ان میں تبدیلی کر کے انھیں جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

امریکی وزارتِ خزانہ کا دہشت گردی اور مالیاتی جاسوسی کا شعبہ پیسے کے تبادلے اور ساز و سامان کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے، خاص طور پر ایسے ساز وسامان کی جو شدت پسندوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام اور عراق کے علاوہ اس تنظیم کی دوسرے ملکوں میں موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں

جنگی بحران میں گھرے خطوں میں مال اور ساز و سامان کی نقل حرکت پر زیادہ قریب سے نظر رکھی جاتی ہے۔

ٹویوٹا کمپنی سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’ہم جس خطے میں بھی فروخت کرتے ہیں اس خطے اور ملک کے قوانین اور قواعد و ضوابط کی پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور ہم اپنے ڈیلروں اور تقسیم کاروں سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان قوانین اور قواعد کی پابندی کریں۔‘

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ وہ امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے بین الاقوامی سپلائی لائن اور مشرق وسطیٰ پہنچے والے ساز و سامان کے بارے میں تحقیق میں بھرپور طریقے سے مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسی بارے میں