پناہ گزینوں کے شیلٹرز پر حملوں میں تین گنا اضافہ: جرمنی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ستمبر تک مہاجرین شیلٹر پر آتشزنی کے61 واقعات پیش آئے ہیں‘

جرمنی کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال پناہ گزینوں کے لیے شیلٹرز پر 500 حملے ہوئے ہیں جو 2014 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔

جرمنی کے وزیر داخلہ ٹومس میزیئر کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں سے دو تہائی حملے مقامی آبادی نے کیے ہیں جن کا ماضی میں کوئی جرائم کا ریکارڈ نہیں ہے۔

جرمنی کو اس سال 15 لاکھ پناہ گزینوں کا سامنا

پناہ گزینوں کی آمد سے مرکل کی مقبولیت کم

یورپی یونین کے وزرا برائے انصاف کی لکسمبرگ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان حملوں کو شرمناک قرار دیا ہے۔

جرمنی کے خیال میں آٹھ لاکھ مہاجرین اس سال جرمنی آئیں گے جو جرمنی کی کُل آبادی کا ایک فیصد بنتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ وہ لوگ حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہیں جن کا ماضی میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

’ہمیں ان سے سختی سے نمٹنا ہو گا اور بتانا ہو گا کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ جرمنی کے لیے شرمناک بات ہے۔ اور نہ ہی ایسی حرکات کی حمایت ہونی چاہیے۔‘

سول رائٹس گروپ ایمیڈیو انٹونیو فاؤنڈیشن کے مطابق 2014 میں مہاجرین کیمپوں پر 153 حملے ہوئے جن میں سے 35 آتش زنی کے واقعات تھے۔

پبلک براڈکاسٹرز این ڈی آر اور ڈبلیو ڈی آر اور ایک جرمن اخبار نے گذشتہ چند مہینوں میں ہونے والے حملوں کا تجزیہ کیا۔

اس تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے ستمبر تک مہاجرین شیلٹر پر آتشزنی کے 61 واقعات پیش آئے ہیں۔

جرمنی کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے ہمراہ نفرت انگیز ای میل، توہین اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ ٹومس میزیئر نے کہا کہ حالیہ دنوں تک ان کو یقین نہیں آتا تھا کہ ایسا ہو رہا ہے۔

’تہذیب کی دیواریں گر چکی ہیں۔‘ اس قسم کے برتاؤ کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی۔

وزیر داخلہ نے ان خبروں پر بھی بات کی جن میں کہا گیا تھا کہ مہاجرین میں شدت پسند بھی یورپ آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت انٹیلیجنس ایجنسیوں سے اس قسم کی اطلاعات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہے اور ابھی تک اس بات کا ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔‘

اسی بارے میں