’دولتِ اسلامیہ بچوں کو لبھا رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 2015 میں شدت پسند دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے 16 سال سے کم عمر کے 52 بچے ہلاک ہوئے

شام میں اطلاعات کے مطابق خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے ٹھکانوں پر فرانس کے پہلے فضائی حملے میں تنظیم میں بھرتی کیے جانے والے 12 بچے ہلاک ہو گئے۔

مصنفہ جیسیکا سٹرن لکھتی ہیں کہ اِن اموات سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق اور شام کی نوجوان آبادی کس طرح شدت پسندوں کی نئی نسل میں ڈھل رہی ہے۔

عالمی رہنما بند آنکھوں سے شامی پاتال میں

دولتِ اسلامیہ میں بھرتی کیسے روکی جائے؟

’بھائی کو دولتِ اسلامیہ چھوڑنے پر آمادہ کرنا چھوڑ دیا‘

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ بچوں کو بھرتی کر کے اُنھیں انسانی ڈھال، جنگجوؤں، خودکش بمبار، نشانہ باز اور خون کے عطیات کے لیے استعمال کرتی ہے۔

جولائی 2015 میں دولت اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں پہلی بار جنگجو بچوں کو قیدیوں کے سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

جولائی 2015 میں شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ 19 بچوں کو خودکش بمباروں کے طور پر استعمال کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2015 میں شدت پسند دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے 16 سال سے کم عمر کے 52 بچے ہلاک ہوئے۔

رقہ کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے سیریا ڈیپلی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دولت اسلامیہ کے تربیتی کیمپوں میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح دوسرے انسان کا سرقلم کیا جاتا ہے۔ اُن کو بھورے بالوں والا ایک پتلا دیا جاتا ہے جس پر بچے مشق کرتے ہیں۔

ایک بچے نے حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کو بتایا کہ ’جب دولت اسلامیہ والے میرے گاؤں میں آئے تو مجھے اُن کا لباس پسند آیا، وہ ایک جماعت کی طرح تھے۔ اُن کے پاس بہت سارے ہتھیار تھے۔ میں نے اُن سے بات کی اور حلب میں اُن کی تربیتی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کیا۔‘

بچے نے جب تربیت حاصل کی تو اُس وقت اُس کی عمر صرف 16 سال تھی لیکن ایک رہنما نے اُنھیں بتایا کہ وہ نوجوانوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

منظم تلقین

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمبوڈیا میں 1970 میں بھرتی کا طریقہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے بھرتی کرنے کے طریقہ سے مختلف نہیں ہے۔

دیگر کامل اداروں کی طرح شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا مقصد انسان کی نئی قسم کی تشکیل ہے۔

نو عمر بچے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا آسان ہدف ہیں جن کو وہ اپنے اِس نئے قسم کے انسان کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔

ایک کامِل ادارے کا یہ ہی طرہ امتیاز ہے۔

جب کمبوڈیا کے سیاسی رہنما پول پوٹ نے 1970 میں کمپوچیا (کمبوڈیا کا پرانا نام جب اِس پر خمیر روج کا کنٹرول تھا ) میں یوٹوپیا بنانے کا تجربہ کیا تھا۔ اِس میں جو طریقہ استعمال کیا گیا تھا وہ دولت اسلامیہ کے بھرتی کرنے کے طریقے سے مختلف نہیں ہے۔

ماہر نفسیات اوٹو کرنبرگ نے اِس کی وضاحت کچھ یوں کی ہے: ’آمرانہ نظام میں پیدا ہونے والے شخص اور اِس سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والوں کے پاس اِس نظام سے فرار ہونے کا بہت کم اختیار ہوتا ہے۔ آمرانہ نظام تعلیم میں غالب نظریے میں بچوں اور نوجوانوں کے منظم تلقین کی اجازت دیتا ہے، ‘خصوصی طور پر جب وہ نوعمر ہوں۔‘

مالی مراعات

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جارجیا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جان ہارگن اور میا بلوم کی تحقیق کے مطابق دولت اسلامیہ نوجوان کارندوں کی تربیت کے رجحان کی پیروی کر رہا ہے۔

اور ایسا کر کے وہ جنگجوؤں کی نئی نسل کو یقینی بنانے کے لیے پُرامید ہیں۔

کچھ بچے اپنے خاندان کے ہمراہ بیرون ملک سے آتے ہیں تاکہ وہ یہاں ایک مکمل اسلامی معاشرے میں پرورش پا سکیں جیسا کہ اُن کے والدین کو لگتا ہے۔

اُنھیں سکھایا جاتا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ کے شہری ہیں نہ کہ اپنے ملک اور خطے کے۔

لیکن اِس میں مالی مایوسی بھی ایک عنصر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کم عمر فوجی بچوں کو ہر ماہ 400 امریکی ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے

عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کی بھاری ٹیکس والی آبادی اِس کے قابو میں ہے جبکہ ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔

امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں کے باعث معاشی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ حملوں کے باعث تیل پر چلنے والی معاشی سرگرمیاں متاثر ہیں جن پر کئی شہریوں کی زندگیوں کا انحصار تھا۔

اِس کے نتیجے میں عراق اور شام کے شہری بینک کے نادہندہ ہوگئے، اُن کے پاس خود کو اور اپنے خاندانوں والوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

معاشی مشکلات کے باعث خصوصی طور پر شام میں کئی والدین اپنے بچوں کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے کے لیے بھیجنے پر مجبور ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے شام کے شہر رقہ میں اپنے تربیتی کیمپ میں شرکت کے لیے والدین کو معاوضہ اور بچوں کو رشوت دی جاتی ہے۔

جون میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کم عمر فوجی بچوں کو ہر ماہ 400 امریکی ڈالر تک تنخواہ دی جاتی ہے۔

پناہ گزین کیمپوں میں موجود بچے بھرتی کرنے کے لیے خصوصی طور پر آسان ہدف ہیں۔

چائلڈ سولجر انیشی ایٹو کے بانی رومیو ڈالیر نے دولت اسلامیہ کے لیے پناہ گزینوں کے راغب ہونے کی وضاحت یوں کی ہے:

’نوجوانوں سے بات کرنے کی کوشش کریں جن کے پاس کوئی امید نہیں، سکول نہیں۔ جب لوگ اُن کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’آپ سرحد پار کر کے آسکتے ہیں اور لڑ سکتے ہیں،‘ تو 13 سال کے عمر کے بچے بھی اِس سے متاثر ہوتے ہیں۔‘

دولت اسلامیہ کے جنگجو اپنے مخالف فری سیئرین آرمی (ایف ایس اے) کے نوجوان جنگجوؤں کو عام معافی کے وعدے کے ساتھ بھرتی کرتے ہیں۔

ایف ایس اے چھوڑنے کے بعد بچوں کو دولت اسلامیہ کے تربیتی مراکز میں بھیجا جاتا ہے جہاں اُن کی میدان جنگ میں روانگی سے قبل برین واشنگ کی جاتی ہے۔

صنعتی پیمانے پر بدسلوکی

تصویر کے کاپی رائٹ IS
Image caption شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’ذہنی طور پر معذور‘ بچوں کو خودکش دھماکوں کے لیے استعال کر رہی ہے

لیکن بھرتی کرنے والے ہمیشہ رضاکار نہیں ہوتے ہیں۔

نسلی اور مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں خصوصی طور پر کرد اور یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو اغوا کرکے اُنھیں زبردستی دولت اسلامیہ میں شمولیت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے مطابق حلب میں 600 سے زیادہ بچوں کو امتحان دے کر گھر واپس آتے ہوئے اغوا کیا گیا۔

اغواکار بچوں کو اسلامی تعلیم دیتے ہیں، اُنھیں جہاد میں شمولیت پر اُبھارا جاتا ہے اور اُنھیں خودکش حملوں اور سر قلم کرنے کی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں۔

فروری 2015 میں اقوام متحدہ کی بچوں کے حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق دولت اسلامیہ ’ذہنی طور پر معذور‘ بچوں کو خودکش دھماکوں کے لیے استعال کر رہی ہے۔

جو بچے فوجیوں کے طور پر تعاون نہیں کرتے دولت اسلامیہ کی جانب سے اُن پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اگست 2015 میں جنگجوؤں نے 14 سال کے شامی بچے کا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دیا تھا کیونکہ اُس نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر کا تعلق امریکی فوج سے ہے اور اِن کا کام مستقبل میں امریکی فوج کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ ’صنعتی پیمانے پر بچوں سے زیادتی میں مصروف‘ہے۔

’وہ نوجوان نسل پر بدترین تشدد اور منظم طریقے سے غیر انسانی سلوک کر رہے ہیں۔یہ کئی نسلوں کا مسئلہ بن جائے گا۔‘

جیسیکا سٹرن ہاورڈ یونیورسٹی میں دہشت گردی سے متعلق امور کی لیکچرار ہیں اور اس کے علاوہ دولتِ اسلامیہ کے بارے میں کتاب’The State of terror‘ کی شریک مصنفہ ہیں۔

اسی بارے میں