لیبیا میں قومی اتحادی حکومت کے قیام کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اقوام متحدہ کے نمائندے تقریباً ایک سال سے لیبیا میں ایک نئی اتحادی حکومت لانے کی کوشش کر رہے تھے

لیبیا کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نے طویل گفت و شنید کے بعد ملک میں قومی اتحادی حکومت کی تشکیل کی تجویز پیش کر دی ہے۔

سنہ 2014 سے لیبیا میں دو متحارب حکومتیں کام کر رہی ہیں جن میں سے ایک مغربی لیبیا میں دارالحکومت طرابلس میں اسلام پسندوں کی حمایت یافتہ حکومت ہے اور دوسری مشرق میں طبرق میں ایک منتخب پارلیمنٹ ہے جسے عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

لیبیا کے بحران کے سیاسی حل پر زور

طبرق کی پارلیمنٹ کا مینڈیٹ اکتوبر میں ختم ہو رہا ہے اور خدشات ہیں کہ اگر کسی سیاسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے حکومت کی مدت ختم گئی تو پھر دارالحکومت کے کنٹرول پر ایک نیا تصادم شروع ہو سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی برینڈینو لیون نے مراکش میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس قومی اتحادی حکومت میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے فیاض سراج کو نامزد کیا جائے گا جن کا تعلق طرابلس والی پارلیمان سے ہے جبکہ دیگر عہدوں کے لیے بھی امیدواروں کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

دونوں پارلیمان کے لیے اس معاہدے کی حمایت کرنا ضروری ہے تاہم کچھ ارکان اقوامِ متحدہ کے منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

طرابلس سے تعلق رکھنے والے جنرل نیشل کانگرس کے رکن عبدالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس تجویز کردہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اور ان سے مشورہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے نمائندے تقریباً ایک سال سے لیبیا میں نئی اتحادی حکومت لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور برطانیہ، اٹلی اور فرانس جیسے اہم یورپی ممالک پہلے ہی اس حکومت کی مکمل حمایت کا وعدہ کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسلح ملیشیاؤں کے ایک اتحاد نے اگست 2014 میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر کے ملک کی جنرل نیشنل کانگریس کو بحال کر دیا تھا

مراکش کے شہر صخیرات میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے برینڈینو لیون نے کہا کہ ’ایک برس سے جاری کوششوں اور تمام خطوں سے تعلق رکھنے والی 150 سے زیادہ شخصیات کے ساتھ کام کر کے بالاخر وہ لمحہ آ گیا ہے کہ ہم ایک قومی اتحادی حکومت کے قیام کی تجویز دے سکتے ہیں۔‘

ایوانِ نمائندگان میں شامل ابراہیم الزغیت نے، جو طبرق سے تعلق رکھتے ہیں، برینڈینو لیون کی تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے لیبیا تقسیم ہو جائے گا اور ایک مذاق بن جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کے مطابق دونوں پارلیمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں اتحادی حکومت کی تجویز سمیت کسی وسیع سیاسی معاہدے کو قبول یا مسترد کرنے کے لیے بات چیت کریں۔

اسی بارے میں