دولتِ اسلامیہ کی شامی باغیوں کے گڑھ کی جانب پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے حکومت مخالف باغی گروپوں کو نہ صرف کئی دیہات سے نکال دیا ہے جبکہ ایک فوجی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا ہے

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے حلب کے نواح میں صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں کے زیرِ اثر کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی اس پیش قدمی کو کئی ماہ کے دوران اس گروپ کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

حلب میں شامی جنرل کی ہلاکت کی تصدیق

امریکہ مزید شامی باغیوں کو تربیت نہیں دے گا

روسی کارروائی ایران کے لیے باعثِ تقویت

شدت پسندوں کی جانب سے یہ کارروائی امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد اور روس دونوں کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کے باوجود کی گئی ہے۔

جمعے کو بھی روسی حکام نے کہا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں کی بمباری سے 24 گھنٹے میں تنظیم کے 300 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم علاقے میں موجود بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بظاہر ان حملوں کا زیادہ تر نشانہ حکومت مخالف دیگر گروپ بنے ہیں اور اسی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے پیش قدمی بھی کی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جمعے کو حلب کے شمال میں پیش قدمی کے دوران دونوں جانب بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

Image caption حلب شام کا دوسرا بڑا شہر اور ملک میں باغیوں کا سب سے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے

تنظیم کے اہلکار عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ نے حکومت مخالف باغی گروپوں کو نہ صرف کئی دیہات سے نکال دیا ہے جبکہ ایک فوجی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب خود کو دولتِ اسلامیہ قرار دینے والے گروپ کے شدت پسند حلب کے شمالی کنارے سے صرف دس کلومیٹر دور ہیں جبکہ جہاں شدت پسند موجود ہیں وہاں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر شام کی حکومتی افواج کا کیمپ ہے۔

عبدالرحمان کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند پہلی بار حلب کے اتنے نزدیک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ ملک کے دوسرے بڑے شہر کی جانب ان کی سب سے بڑی پیش قدمی ہے۔

خیال رہے کہ حلب سے ہی بدھ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے جنرل حسین ہمدانی کی ہلاکت کی خبر بھی آئی ہے۔

جنرل ہمدانی دولت اسلامیہ کے خلاف شامی فوج کے جنگی مشیر کے فرائض سرانجام دیے رہے تھے۔

ایران نے ان کی ہلاکت کا الزام دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں پر ہی عائد کیا ہے لیکن ان کی ہلاکت کن حالات میں ہوئی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اسی بارے میں