شمالی کوریا: حکمراں جماعت کی 70 ویں سالگرہ پر جشن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بارش کی وجہ سے پریڈ قدرے دیر سے شروع ہوئي

شمالی کوریا میں حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کی 70 ویں سالگرہ کے موقعے پر تاریخ کا سب سے بڑا جشن منا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس موقعے پر بکتر بند گاڑیوں اور بیلسٹک میزائلوں کے کارواں کے علاوہ دارالحکومت پیونگ یانگ میں فوجیوں کی پریڈ شروع ہو چکی ہے۔

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان اس جشن کی صدارت کریں گے تاہم کوئی بھی معروف عالمی رہنما اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہا ہے۔

رات تیز بارش کے سبب پریڈ قدرے تاخیر سے شروع ہوئی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے اس کے باوجود اس تقریب پر دنیا کی نگاہیں ہوں گی کہ شمالی کوریا اس موقعے پر کسی نئے فوجی سازو سامان کی نمائش تو نہیں کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس پریڈ کی صدارت پارٹی کے سپریمو کم جونگ ان کر رہے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا کی حکمراں جماعت ورکرز پارٹی کی 70 ویں سالگرہ کے جشن کے طور پر یہ تقاریب منعقد ہو رہی ہیں

جب شمالی کوریا نے رواں سال کے اوائل میں اس جشن کو منانے کا اعلان کیا تو حکومت نے جدید دور کی جنگوں کے لیے موزوں ’جدید ترین‘ ہتھیاروں کی بات کہی تھی۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم ال سونگ کے پوتے کم جونگ ان دن بھر جاری رہنے والی اس تقریب میں کسی مرحلے پر خطاب بھی کریں گے۔

یہ واضح ہے کہ اس تقریب سے جنوبی کوریا اور امریکہ کو بطور خاص نافرمانی کا اشارہ دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی کوریا کا جنگ کے منظر پیش کرتا ہوا مجسمہ

حکام نے سنیچر کو ہونے والی تقریبات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں تاہم ہزاروں شہری مختلف چوراہوں پر ٹارچ لائٹ پریڈ کی مشق کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ امید کہ یہ پریڈ شام کو ہوگی۔

دریا کے کنارے ایک بڑا سٹیج بھی لگایا گیا ہے جہاں دیر رات خواتین پر مشتمل شمالی کوریا کا معروف ترین میوزیکل بینڈ ’موران بونگ‘ اپنا پروگرام پیش کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنگی ساز و سامان کی نمائش کے علاوہ فوجی پریڈ بھی ہوگی

شمالی کوریا کے سب سے قریبی دوست چین نے اس موقعے پر اپنی کمیونسٹ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما کواس تقریب میں شرکت کے لیے روانہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام خطے میں خطرے کا سبب رہا ہے اور پیونگ یانگ نے تین بار زیرِ زمین جوہری تجربہ کر رکھا ہے جبکہ بین الاقوامی مذمت اور پابندیوں کے باوجود چوتھے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں