ترکی: دھماکوں میں 100 ہلاک، ملک میں تین روزہ سوگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں کے بعد تین روز کا سوگ منایا جا رہا ہے ۔انقرہ میں امن ریلی کے دوران ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ 245 افراد زخمی ہیں جن میں سے 48 کی حالت تشویشناک ہے۔

ترکی میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں لوگوں کو گھبراہٹ میں بھاگتے اور خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ترکی میں کرد باغیوں کے حملوں میں اضافہ کیوں؟

’کردوں کے ساتھ جنگ بندی قائم نہیں رہ سکتی‘

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے شدت پسندوں نے کیے ہیں۔ ان اطلاعات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ان میں سے ایک خود کش حملہ تھا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سینچر کی رات امریکی صدر اوباما نے ترکی کے صدر طیب اردغان کو ٹیلی فون کیا اور دھماکوں میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

ترک صدر نے ان حملوں کو ’دہشت گرد کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DOKUZ8HABER
Image caption ویڈیو میں پہلا دھماکہ ہونے کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں

یہ دھماکے شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے قریب ہوئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے انادلو کے مطابق ان دھماکوں کے بارے میں وزیر داخلہ اور وزیر صحت نے وزیر اعظم احمد اوغلو کو بریفنگ دی ہے۔

دھماکے اس وقت ہوئے جب لوگ ایک امن ریلی میں حصہ لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ ریلی کا مقصد کرد علیحدگی پسند گروہ پی کے کے، کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔

سنیچر کو ’امن اور جمہوریت‘ نام کی اس ریلی کی کال دینے والوں میں کرد نواز جماعت ایچ ڈی پی بھی شامل تھی۔ ریلی مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے شروع ہونا تھی۔

ایچ ڈی پی جماعت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان کے خیال میں ان دھماکوں کو نشانہ ان کے کارکن تھے۔‘

جماعت کے رہنما نے ان دھماکوں کو ’بڑا قتل عام‘ قرار دیتے ہوئےتمام انتخابی ریلیوں کو منسوخ کر دیا ہے اور اس حملے کے لیے حکومت کو قصور وار ٹھرایا ہے۔

ترکی میں گذشتہ جون میں ہونے والے بے نتیجہ انتخابات کے بعد یکم نومبر کو دوبارہ پارلیمانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DHA
Image caption یہ دھماکے شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوئے ہیں

دوسری جانب پی کے کے نے اپنے جنگجوؤں سے ترکی میں تب تک گوریلا کارروائیوں کو روکنے کا کہا ہے کہ جب تک ان پر پہلے حملہ نہ ہو۔

اتحادی گروپ جس میں پی کے کے بھی شامل ہے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس کی فورسز اپنی موجودہ پوزیشن کے دفاع کے علاوہ کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گی اور ساتھ ساتھ صاف اور برابر انتخابات کے عمل میں حائل نہیں ہوں گی۔‘

ایک مقامی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دو دھماکوں کی آوازیں سنیں اور متعدد لاشیں دیکھیں۔

انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔

ایچ ڈی پی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور پولیس ان افراد کو نشانہ بنا رہی ہے جو زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل جون میں بھی ایچ ڈی پی کی ریلی کو دیار باقر شہر میں عام انتخابات سے قبل نشانہ بنایا گيا تھا۔

کرد جنگجو گروہ پی کے کے اور ترک حکومت کے درمیان جنگی بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اس قسم کے حملے دونوں جانب سے تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں