برطانیہ: جادو ٹونے سے بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جادو ٹونے کے حوالے سے بچوں پر تشدد بہت ہولناک فعل ہے

بی بی سی کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق برطانیہ میں آسیب اور جادو ٹونے کے حوالے سے بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

لندن کی مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں سال مذہبی نوعیت کے 60 جرائم کا اندراج ہوا جبکہ سنہ 2013 میں ان جرائم کی تعداد 23 اور سنہ 2014 میں 46 تھی۔

برطانیہ کی نصف سے زائد پولیس کی جانب سے اس نوعیت کے جرائم کا اندراج نہیں کیا جاتا ہے جبکہ کئی مقامی حکام بھی اس حوالے سے صحیح معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

بچوں کے تحفظ کی تنظیم این ایس پی سی سی (نیشنل سوسائٹی فار پریونشن آف کرؤلٹی ٹو چلڈرن) کا کہنا ہے کہ حکام کے لیے ’ضروری ہے کہ وہ اس مخصوص قسم کے تشدد کی نشاندہی کر سکیں۔‘

لندن پولیس کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ ان کے پاس ان مخصوص جرائم سے نمٹنے کےلیے پروجیکٹ وائیلٹ کے نام سے پولیس دستہ موجود ہے۔

بی بی سی کو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت حاصل ہونے والی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ کی نصف کے قریب پولیس اس طرح کے کیسز کا اندراج کرتی ہی نہیں ہے۔

لندن پولیس کے علاوہ صرف گریٹر مانچسٹر اور نارتھ ہیمپشائر کی جاب سے گذشتہ تین سالوں میں صرف ایک ایک کیس کا اندراج کیا گیا ہے۔

Image caption بچوں کی ایک فلاحی تنظیم کے مطابق یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صرف افریقی باشندے ہی اس مسئلے کا شکار ہیں

معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت برطانیہ بھر کی مقامی کونسلز میں علیحدہ سے کی جانے والی ایک درخواست کے نتیجے میں سامنے آنے والی معلومات کے تحت سنہ 2014 میں مجموعی طور پر 31 کیسز کا اندراج کیا گیا تھا۔ 30 کیسز انگلینڈ میں جبکہ ایک ویلز میں درج کروایا گیا تھا جن میں بچوں پر جادو ٹونہ کرنے یا پھر آسیب ہونے کا الزام تھا۔

یاد رہے کہ 2006 میں حکومتی کمیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’آسیبی غلبہ‘ اور ’جادو ٹونا‘ سے متعلق بچوں پر تشدد کے واقعات کا مرکزی طور پر اندراج ہونا ضروری ہے۔

پولیس کی وائیلٹ ٹیم پروجیکٹ کے ٹیری شارپ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کیسز کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے تاہم ان میں تشویشناک اضافہ نظر آیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کیسز میں نہ صرف جسمانی تشدد اورشدید نوعیت کے زخم آنے کے واقعات سامنے آئے ہیں بلکہ تشدد کے بد ترین واقعات میں جانوں کا بھی زیاں ہوا ہے۔‘

بچوں کی فلاحی تنظیم افریقن یونائیٹڈ اگینسٹ چائلڈ ابیوز کی بانی ڈیبی آریو کہتی ہیں کہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صرف افریقی باشندے ہی اس مسئلے کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم جنوبی ایشیائی ممالک سمیت مختلف ثقافتوں اور عقیدوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی مدد کرتی رہی ہے۔

این پی سی سی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ جادو ٹونے کے حوالے سے بچوں پر تشدد کے واقعات تعداد میں نسبتاً کم ہوتے ہیں تاہم یہ اکثر سفاکیت کی ہولناک سطح پر ہوتے ہیں۔

’ان ہولناک جرائم سے نمٹنے والے حکام کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ان مخصوص قسم کے جرائم سے بچانے کے لیے وہ ان کا ارتکاب ہونے سے قبل ہی ان کی نشاندہی کرلیں۔ ‘

حکومت کا کہنا ہےکہ قانون میں یہ بات واضح ہے کہ جسے بھی بچوں کی بہبود کے حوالے سے تحفضات ہیں وہ ’اس بارے میں بچوں کی سماجی نگہداشت کےادارے یا پھر پولیس کو مطلع کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں