مشتعل ہجوم نے میئر کو زندہ جلا دیا

Image caption گوئٹے مالا کا شمار لاطینی امریکہ کے پرتشدد ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں اکثر جرائم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں

لاطینی امریکہ کے ملک گوئٹے مالا میں مقامی افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے مغربی قصبے کے میئر کو کوڑے مارنے کے بعد زندہ جلا دیا ہے۔گروہ نے میئر پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے اپنے سیاسی حریف پر حملہ کروایا تھا۔

اتوار کو ہونے والے اس واقعے میں میئر ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی افراد کا خیال ہے کہ میئر اس سے قبل ہونے والے پر تشدد واقعے کے ذمہ دار تھے، جس میں دو خواتین ہلاک ہوئی تھیں اور پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

گوئٹے مالا کا شمار لاطینی امریکہ کے پرتشدد ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں اکثر جرائم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔البتہ کسی منتخب حکومتی اہلکار کو زدوکوب کرنے کا یہ غیر معمولی معاملہ ہے۔

گذشتہ ماہ مسٹر جوراکیں نے شہر میں ہونے والے میئر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن انتخابات میں ناکامی کے بعد اُن کے حریف مسٹر لوری نازو نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

اتوار کو مسٹر لوری نازو سکیویس اور اُن کے خاندان کے افراد سفر کر رہے تھے کہ ایک کار نے انھیں روکا اور مسلح افراد نے اُن کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

اس حملے میں مسٹر لوری نازو سکیویس کی بیٹی اور بھانجی ہلاک ہوئی جبکہ وہ اور اُن کے چار رشتہ دار زخمی ہوئے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد مشتعل مقامی افراد کا ایک ہجوم میئر کی تلاش کے لیے نکل پڑا۔ ان افراد کے خیال میں یہ حملہ میئر نے کروایا تھا۔

مشتعل افراد نے پہلے میئر کے رشتے داروں کے مکانوں کو آگ لگائی اور اُس کے بعد وہ میئر کے مکان پر پہنچے۔ جہاں انھوں نے میئر مکان سے باہر نکال کر انھیں مارا پیٹا اور پھر آگ لگا دی۔

پولیس جب تک پہنچی اُس وقت میئر ہلاک ہو چکے تھے۔

اسی بارے میں