شامی پناہ گزینوں کی جنگی علاقے میں واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں اس نے واپس لوٹنے والوں کی تعداد میں پریشان کن اضافہ دیکھا ہے

شُمالی اُردن میں شامی پناہ گزین جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے ہیں۔ بچے بس میں سامان رکھنے میں والدین کی مدد کر رہے ہیں۔

یہ پناہ گزین یا تو یورپ تک سفر کے اخراجات اٹھا نہیں سکتے یا پھر یورپ جانا ہی نہیں چاہتے۔ اس کے بجائے یہ ایک اور خطرناک جگہ جا رہے ہیں: جنگی علاقے میں واپس اپنے گھروں کو۔

جنوبی شام کے علاقے دیرا کی ایک رہائشی اور تین بچوں کی ماں کا کہنا تھا کہ ’سب نے واپس جانا شروع کر دیا ہے۔ ہم بہت تھک گئے ہیں۔ شام جا کر میں اپنے جاننے والوں کو تلاش کروں گی۔ وہاں میں اپنے لوگوں کے درمیان ہوں گی۔ یہ ٹھیک ہوگا۔ جو ہونا ہے ہو جائے گا۔‘

یک طرفہ ٹکٹ

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں اس نے واپس لوٹنے والوں کی تعداد میں پریشان کن اضافہ دیکھا ہے۔

جولائی میں واپس لوٹنے والے پناہ گزینوں کی یومیہ تعداد 66 تھی جبکہ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر 129 ہو گئی۔ اس کے بعد یہ تعداد یومیہ 100 سے اوپر رہی ہے۔

اُردن میں تقریباً چھ لاکھ اندراج شدہ شامی پناہ گزین موجود ہیں جن میں سے بیشتر شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ چار سال سے جاری خونی خانہ جنگی کے باعث ے گھر ہونے والےان بے سر و سامان پناہ گزینوں کی بےتابی اب بڑھتی جا رہی ہے۔

اُردن سے واپس شام جانے کے خواہشمند پناہ گزینوں کے لیے زاتاری کیمپ کے باہر کھڑی بس کے لیے اندراج کرانا لازمی ہے۔ ان میں سے اکثر کو پہلے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کی جانب سے نفسیاتی مشاورت دی جاتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اہلکار عمر نے بتایا کہ ’سب سے پہلی بات جو ہم ان سے کہتے ہیں وہ یہ کہ شام میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جو یو این ایچ سی آر کی نظر میں محفوظ ہو۔ دوسری بات ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ اُردن کبھی واپس نہیں آ سکتے۔ یہ یک طرفہ ٹکٹ ہے۔‘

اُردن میں موجود شامی پناہ گزینوں کی مالی مشکلات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ 86 فیصد شامی پناہ گزین اُردن کی سطح غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جو کہ 68 اردنی دینار (96 امریکی ڈالر یا 63 برطانوی پاؤنڈ) فی مہینہ ہے۔

اُردن کی حکومت بیشتر پناہ گزینوں کو قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور نہ ہی اب ان کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

گذشتہ ماہ کے اوائل میں کیمپوں سے باہر رہنے والے 229,000 پنا گزینوں کو اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت ملنے والی امداد عالمی عطیات میں کمی کے باعث روک دی گئی تھی۔

کڑے فیصلے

حمص کے ایک رہائشی ابو احمد نے اپنی معمر ماں کے ساتھ اردن میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ ان کی دو بیٹیوں کو لے کر حکومتی کنٹرول والے دمشق میں اپنے والدین کے پاس جا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک بیٹی نومولود ہے۔

ابو احمد کہتے ہیں کہ ’زندگی یہاں بہت دشوار ہے۔ میری نومولود بیٹی بہت بیمار ہے۔ میں یہاں اس کے علاج کے اخراجات نہیں اٹھا سکتا۔ شام ہی میں اس کا علاج ہو سکے گا۔

’ہم جدا ہو رہے ہیں کیوں کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کچھ حالات ہم سے بھی زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ میری بیٹی میرے لیے ترجیح رکھتی ہے۔ رات میں وہ جاگتی ہے اور سانس نہیں لے پاتی۔ میرے پاس گاڑی نہیں کہ اسے ہسپتال لے جا سکوں۔ میرے پاس دوائی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘

ان کی اہلیہ شام سے باہر نکلنے کے سفر کو ’تشدد‘ کی طرح یاد کرتی ہیں۔ وہ شام میں جاری لڑائی کی خبریں سنتی رہتی ہیں اور وہ واپس جانے کے خطرات سے واقف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم واپس جانے پر خوش نہیں ہیں لیکن یہاں حالات بہت خراب ہیں۔ بہت مہنگائی ہے۔ ہمیں خوراک کے لیے واؤچر نہیں ملتے۔ ہمیں اپنے لیے پانی تک خریدنا پڑتا ہے۔ میرے شوہر مہینے میں کچھ دن غیر قانونی طور پر کام کر سکتے ہیں لیکن ہر وقت نہیں۔‘

’زیادہ خطرناک‘

اربد میں مقیم ایک اور شامی خاندان بھی وقتی طور پر جدائی اختیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

خالد اپنی 19 سالہ بیٹی آیت کو دیرا واپس لے کر جا رہے ہیں تاکہ وہ سیکنڈری سکول کی تعلیم مکمل کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے۔ ان کی اہلیہ باقی بچوں کے ساتھ چند مہینوں تک اُردن میں ہی رہیں گی۔

شام میں خوش حال زندگی گزارنے والے خالد کی تمام جمع پونجی ختم ہو چکی ہے۔ کرایہ، خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات جو کہ تقریباً 600 اُردنی دینار (847 امریکی ڈالر یا 552 برطانوی پاؤنڈ) فی مہینہ کے لیے وہ اپنے رشتہ داروں کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

انھوں نے مجھے دیرا میں اپنے بڑے سے گھر کی تصویر دکھائی۔ ان کے والدین وہاں ہیں اور انھوں نے خالد کو بتایا ہے کہ حالات اب بہتر ہیں۔

خالد کہتے ہیں کہ ’حالات بہت خراب رہے ہیں۔ تقریباً ہر روزہی شیلنگ اور بیرل بامنگ ہوتی رہی ہے۔ لوگ مرتے رہے ہیں۔ گذشتہ 20 دنوں سے التوائے جنگ کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انھیں اس بات کا خدشہ ہے کہ حالات پھر سے زیادہ بگڑ سکتے ہیں؟

’ہاں۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ میں خوف زدہ ہوں۔ لیکن آپ تب ہی مرتے ہیں جب آپ کا وقت پورا ہو چکا ہو۔ ہمارے لیے یہاں کوئی زندگی نہیں ہے۔‘

جنوبی شام سے جاری کردہ وڈیوز میں حکومتی طیاروں کو بیرل بم گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

حریف ’فری سیرین آرمی‘ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے ہتھیار نہیں ہیں جو انھیں لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ضرورت ہیں اور حال ہی میں وارد ہوئی روسی فضائی قوت سے بھی خون خرابے میں اضافہ ہو گا۔

ایف ایس اے کے ترجمان میجر اسًام الرئیس کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اندیشہ ہے کہ حالات زیادہ مشکل ہو جائیں گے۔ فضائی حملوں میں شدت آئے گی اور وہ زیادہ طاقتور اور ٹھیک نشانے پر لگیں گے جس سے بہت زیادہ شہری ہلاک ہوں گے۔ ہم اپنے پناہ گزینوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ابھی شام واپس نہ جائیں کیونکہ یہ زیادہ خطرناک ہو گا۔‘

تاہم اُردن میں رہ کر بھوک اور افلاس سہنے کے بجائے اس جنگی علاقے میں واپس جانے کا فیصلہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں