سعودی عرب میں شراب ملنا کتنا مشکل؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

سعودی عرب میں گھر میں تیار کردہ شراب کے ساتھ ایک برطانوی شخص کی گرفتاری کے بعد، وہاں شراب نوشی کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

74 سالہ برطانوی قیدی کارل اینڈری سعودی مذہبی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے لے کر اب تک ایک سال سے زائد عرصہ قید میں گزار چکے ہیں۔

اُن کے خاندان کو ڈر ہے کہ اگر اُنھیں 360 کوڑے لگائے گئے تو وہ جانبر نہیں ہو سکیں گے۔

’360 کوڑوں کی سزا کے باعث وہ زندہ نہیں رہ پائیں گے‘

سعودی عرب میں شراب پر پابندی ہے اور دفتر خارجہ نے برطانوی شہریوں کو قوانین کے خلاف ورزی نہ کرنے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

لیکن اِس سخت پابندی کے باوجود یہ کتنا آسان ہے کہ سعودی عرب میں شراب تک رسائی مل جائے؟

Image caption 74 سالہ برطانوی قیدی سعودی مذہبی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے لے کر اب تک ایک سال سے زائد عرصہ قید میں گزار چکے ہیں

49 سالہ برطانوی شہری ٹونی سعودی عرب میں کاروباری مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں اور پانچ سال سے وہاں مقیم ہیں۔ اِس وقت وہ سعودی عرب میں نہیں ہیں لیکن واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ جو لوگ اُن عمارتوں میں رہتے ہیں جہاں مغربی شہریوں کی اکثریت ہے تو وہاں لوگوں کوگھر میں تیار کردہ شراب اور بیئر تک رسائی ہوتی ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ سپرٹ تک بھی، جس کو ’صدیق‘ کہتے ہیں، اور یہ بنیادی طور پر صاف اور خالص شراب ہے۔

’اگر آپ اُن عمارتوں میں ہیں تو آپ کو دیگر ممالک سے آئے ہوئے چند ایسے افراد مل جائیں گے جو اپنی شراب خود بناتے ہیں، میں نے بھی بنائی ہے۔‘

کچھ علاقوں میں شراب بنانے کے کلب بھی موجود ہیں اور اِن میں مقابلے بھی ہوتے ہیں۔

بند آنکھیں

ٹونی کا کہنا تھا کہ سپر مارکیٹ میں آپ کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے شخص کو دیکھیں تو وہ اپنی ٹرالی ’پھلوں کے رس کے ڈبوں اور شکر کے بڑے تھیلے‘ سے بھر رہا ہو گا کیونکہ یہ شراب بنانے کے اجزا ہیں۔

’اِن عمارتوں میں شراب کے نشے میں دُھت ہونا عام بات ہے۔ یہ واقعی ایسا ہی جیسے آپ کہیں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔

یہاں جوڑے ہوتے ہیں جو چیزوں سمگل کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور کچھ بڑے لوگوں کے بار بھی ہیں جن کے بارے میں سعودی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔‘

’یہاں سعودیوں میں بھی کافی پینے کا رواج ہے۔ بہت سے لوگ جن کے ساتھ میں ملتا جلتا رہا ہوں اُن کے پاس جیک ڈینیئلز اور دیگر نشہ آور شرابوں کا ذخیرہ موجود ہوتا تھا اور اِس کے ساتھ ساتھ وہ مقامی طور بنائی گئی شراب بھی خریدتے تھے۔‘

ٹونی کا کہنا ہے کہ شراب کے ساتھ سفر کرنا خطرے سے بھرپور ہے کیونکہ کئی راستوں پر سکیورٹی والے ہوتے ہیں۔

میں نے جدہ کے قریب ابحر کے علاقے میں کئی پارٹیاں کی ہیں، یہاں آپ کوٹھی کرایے پر لے سکتے ہیں جس میں سوئمنگ پول ہوتا ہے اور اِس کی دیواریں بلند ہوتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption سعودی عرب میں رہنے والے زیادہ تر مغربی ممالک کے لوگ رہائشی کامپاؤنڈ میں رہتے ہیں

’لیکن میں اِس جگہ کبھی خود شراب لے کر نہیں گیا کیونکہ خطرہ بہت زیادہ ہے۔ میں ہمیشہ سعودی دوستوں کو لانے کے لیے کہتا ہوں، اگر اُنھیں پکڑ بھی لیا جائے تو کسی مشکل کے بغیر وہ پولیس والوں کو ایک بوتل دے کر دوبارہ اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں۔‘

صورت حال اُس وقت خراب ہو جاتی ہے جب معاملہ مذہبی پولیس کے ہاتھ میں چلا جائے، کیونکہ وہ کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔

غیرقانونی بازار

ٹونی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ’کھاتے پیتے‘ سعودی اِن جگہوں پر پارٹیوں کے لیے جاتے ہیں، اور پولیس اس وقت تک چھاپہ نہیں مارتی جب تک اُنھیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہاں کون موجود ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’اگر وہاں کوئی بااثر شخص موجود نہ ہو تب بھی یہاں سب صحیح ہے، اس وقت تک جب تک آپ شور شرابہ نہ کریں یا کسی کو پریشان نہ کریں۔

’کسی وقت آپ نے کسی بااثر شخص کو پریشان کیا یا آپ جانتے ہیں کہ یہ شخص بااثر ہے تو آپ نشانہ بن سکتے ہیں۔

78 سالہ جان سٹیفورشائر میں رہتے ہیں۔ وہ آٹھ سال تک سعودی عرب میں کام کرتے ہیں رہے ہیں اُنھوں نے 2007 میں سعودی عرب چھوڑا تھا۔

وہ اپنی شراب خود بناتے تھے اور اِن کو غیر قانونی بازار کی شراب کے ’اچھے برانڈ‘ تک رسائی تھی۔

اُن کا کہنا ہے میں وہاں ’بہت کم‘ لوگوں کو جانتا تھا جو شراب نوشی نہیں کرتے تھے یا اپنی شراب نہیں بناتے تھے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’عام اصول یہ ہے کہ جب تک آپ اپنی عمارت میں خاموش ہیں پولیس آپ پر ہاتھ نہیں ڈالے گی۔

’وہاں خطرہ رہتا تھا لیکن اِس کو عام سا خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔ جب تک آپ یہ ظاہر نہ کریں کہ آپ کیا کر رہے ہیں تو آپ بالکل محفوظ ہیں۔‘

’نفیس‘ شراب بنانا

جان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایک ایسی پارٹی میں موجود ہوں جہاں سخت شراب پی جارہی ہو اور ’شور و غل‘ مچنے والا ہو تو وہ وہاں سے نکل جاتے تھے۔

’کچھ عمارتوں میں قوانین بہت سخت ہیں۔ اگر وہاں سعودی مالک رہتا ہے تو پارٹی بہت ہلکی ہوتی ہے لیکن اگر دیگر جگہوں پر قوانین کمزور ہوں تو آپ زیادہ اطمینان سے پارٹی کر سکتے ہیں۔

’میں ایسے لڑکوں کو جانتا ہوں جن کے پاس جدید ترین آلات ہیں۔ وہ خالص شراب کشید کرتے ہیں جس کو آپ خرید کر پانی ملاتے ہیں۔ اگر آپ صحیح لوگوں کو جانتے ہیں تو اسے خریدنا بڑا آسان ہے۔ یہ خاصا بڑا کاروبار ہے۔‘

اسی بارے میں