’شمالی شام میں کرد ملیشیا جنگی جرائم کی مرتکب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرد ملیشیا نے یہ کارروائیاں وہاں کے رہائشیوں کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے یا ان سے روابط کے جواب میں کی ہیں

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام کے شمالی علاقوں میں کرد فوج کے اہلکار جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ان کی جانب سے لوگوں کو جبراً نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے اور وہاں بڑی تعداد میں گھروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کرد فوجی اہلکاروں پر مشتمل پاپولر پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) پر دولت اسلامیہ کے قبضے سے واپس لینے والے علاقوں اور گاؤں کو منہدم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر یہ کارروائیاں وہاں کے رہائشیوں کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے یا ان سے روابط کے جواب میں کی گئی ہیں۔

وائی پی جی نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی بین الاقوامی اتحاد کا اہم ترین حصہ ہے۔

رواں سال اتحادیوں کے فضائی حملوں اور ہتھیاروں کی فراہمی سے ملیشیا کو شام کے بیشتر شمالی علاقوں سے دولت اسلامیہ کو نکالنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز بتایا کہ ان کے محققین کو وائی پی جی کی جانب سے ’تشویشناک حد تک ظلم و زیادتی‘ کرنے کے شواہد ملے ہیں۔

یاد رہے کہ وائی پی جی حسکہ اور رقہ صوبوں کی کرد خودمختار انتظامیہ کی ڈیمو کریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کا عسکری دستہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں تل حمیس کے علاقے میں حسینیہ گاؤں کے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’انھوں نے ہمیں گھروں سے باہر نکال دیا اور گھروں کو جلانا شروع کر دیا۔ وہ اپنی ساتھ بُل ڈوزرز بھی لائے تھے۔ وہ ایک کے بعد ایک گھر مسمار کرتے گئے حتیٰ کہ پورا گاؤں تباہ ہو گیا۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مطابق سیٹیلائٹ تصاویر میں حسینیہ گاؤں کی تباہی کے مناظر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 2014 میں اس گاؤں میں 225 عمارتیں صحیح حالت میں کھڑی تھیں جبکہ جون 2015 کی تصاویر میں صرف 14 عمارتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز بتایا کہ ان کے محققین کو وائی پی جی کی جانب سے تشویشناک حد تک ظلم و زیادتی کرنے کے شواہد ملے ہیں

اسی دوران سُلوک کے جنوبی قصبے کے شہریوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محققین کو بتایا کہ وائی پی جی کے اہلکاروں نے ان پر نام نہاد دولت اسلامیہ کی حمایت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے علاقہ خالی نہیں کیا تو انھیں جان سے مار دیا جائے گا۔

دوسری جانب کچھ واقعات میں لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے گاؤں میں چند افراد نام نہاد دولت اسلامیہ کے حامی تھے۔ تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کو لوگوں کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

دیگر واقعات میں متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کی جانب سے وائی پی جی کے جنگجوؤں پر انھیں علاقے سے نکل جانے اور بصورت دیگر فضائی حملوں کی دھمکی دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محققین کو ایک شخص نے بتایا: ’انھوں نے ہم سے کہا کہ ہمیں ہر صورت میں جانا ہوگا ورنہ وہ امریکی اتحادیوں سے کہیں گے کہ ہم شدت پسند ہیں۔ جس کے بعد ان کے جہاز ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر حملہ کر دیں گے۔‘

ایک واقعے میں وائی پی جی کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک گھر پر پیٹرول چھڑک کر اس کے گھر والوں سمیت آگ لگانے کی دھمکی دی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ وائی پی جی کی جانب سے ان واقعات کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس بات پر اصرار کیا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں یا تو عسکری نکتہ نظر سے ضروری تھیں یا پھر شہریوں کی اپنی حفاظت کے لیے ضروری تھیں۔

اسی بارے میں