شام میں روس کے بڑھتے ہوئے مفادات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس کی شام میں مداخلت سے اس کی صدر بشار الاسد کے حامیوں میں شہرت بڑھ گئی ہے

روس کی جانب سے شام میں فضائی حملوں کے آغاز کو محض دو ہفتے گزرے ہیں اور اس دوران نہ صرف فضائی حملوں کی رفتار میں تیزی آ گئی ہے بلکہ ان کا ہدف بھی بدل گیا ہے۔

روس کی فضائی طاقت کو شامی فوج کے حملوں اور زمین پر ان کے اتحادیوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حملوں کے اس نئے مرحلے کا مقصد کیا ہے؟

کینن انسٹیٹیوٹ کے محقق اور تحقیقی ادارے سی این اے کارپوریشن کے امریکی تجزیہ کار مائیکل کوف مین کہتے ہیں کہ شام کی فوج اس سال اپنے قبضے سے نکل جانے والے حما اور لتاکیا صوبوں کے علاقے واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ شمال اور مشرق میں ادلیب اور حلب کی جانب بڑھ رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شامی افواج کی کوشش ہوگی کہ علویوں کے علاقے کو محفوظ بناتے ہوئے لڑائی کو شام کے شہر جسرالشغور اور ترکی کی سرحدوں تک پیچھے دھکیل دیا جائے اور مرکز میں حُمص کے اطراف میں اپنا قبضہ مضبوط کر لیا جائے۔‘

’شام کی فوج پُرامید ہے کہ ایران کی حمایت اور روسی فضائیہ کی مدد سے وہ جلد میدان جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘

امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں روس کے دفاعی امور کے ماہر دمیتری گورن برگ بھی اسی نکتہ نظر کے حامی نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اہم ہدف یہی نظر آتا ہے کہ ملک کے مغربی علاقوں اور دمشق کے اطراف میں حکومتی عملداری مستحکم بنائی جائے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ان دونوں علاقوں کا باہمی رابطہ حکومت کے تحت رہے۔‘

مذکورہ باتوں کی روشنی میں ان حملوں کو سمجھا جا سکتا ہے جن میں ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں کے اُن حصوں کو نشانہ بنانے کی بجائے جہاں کرد اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کی اجارہ داری ہے، ان علاقوں میں موجود باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

روسی فضائیہ کے حملوں میں نمایاں اضافے کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر اوسطاً روزانہ 50 سے 60 حملوں پر آگئی ہے جبکہ 13 اکتوبر کے روز روسی فضائیہ کی جانب سے 86 حملے کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنے فضائی حملے پر روس کا کہنا ہے کہ اس نے ادلیب میں دولت اسلامیہ کے تربیتی کیمپ کو نشانہ بنایا تھا

کوف مین کہتے ہیں کہ ’اگرچہ شام کی حکومتی افواج کو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں تاہم انھیں امریکہ کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں سے مسلح باغیوں کی جانب سے بھی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے سعودی عرب سے امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل خاموشی سے شام میں پہنچائے جانے سے انھیں نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

امریکی تِھنک ٹینک واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے سینیئر فیلو اینڈریوٹیبلر کہتے ہیں کہ روسی حملوں میں اسلحے کے ذخائر کی تباہی باغیوں کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

ٹیبلر مزید کہتے ہیں کہ ’کچھ بھی ہو، بہر حال اسد حکومت کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی فوج میں ایران اور دیگر شیعہ ملیشیا کا اضافہ ہو رہا ہے۔‘

روس کے فضائی حملے شامی حکومت کے اُن مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا تعلق دولت اسلامیہ سے نہیں ہے اور یہ حملے خلیجی ممالک میں ان کے حامیوں میں غصے کا باعث بن رہے ہیں۔

ایک جانب شام کی حکومت اور دوسری جانب دولت اسلامیہ کے جنگوؤں کی پیش قدمی کے بعد حزب اختلاف کی مختلف طاقتیں کسی حد تک اس بات پر مجبور ہوگئی ہیں کہ وہ ایک خاموش اتحاد کی تشکیل شروع کر دیں۔

اگرچہ امریکہ اپنے حمایتی گروہوں کو اسلحہ بارود کی فراہمی میں اضافہ کر رہا ہے، تاہم تجزیہ کار جوشوا لینڈس کہتے ہیں کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ شامی باغیوں کی کامیابی کے لیے پرُعزم ہے؟ یہ غیر یقینی بات لگتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’امریکی صدر باراک اوباما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ شام پر روس کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن وہ ہتھیاروں کی ترسیل بڑھانے میں سعودی عرب کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

لینڈس کہتے ہیں کہ ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے سے اس بات کی صمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ہتھیار آخر میں کن لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر باراک اوباما کو شامی باغیوں کی حمایت کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر شام کی حکومت کی جانب سے نمایاں پیش قدمی کی جاتی ہے تو یقیناً سعودی عرب اور دیگر ممالک کو ان ہتھیاروں کے حوالے سے مزید محتاط رویہ نہیں رکھنا پڑے گا۔

کوف مین کہتے ہیں کہ ’یہ صرف شام کی بات نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان سب سے اہم مقابلہ ہے جو کہ یمن، شام، اور شمالی عراق اور دیگر علاقوں میں جنگ کی صورت میں جاری ہے۔ عرب، اسرائیل معاملے سے زیادہ یہ معاملہ اس علاقے کی نظریاتی حد بندیوں کی وضاحت کرتا ہے۔‘

امریکہ کی جانب سے شام کی حکومت کے نام نہاد اعتدال پسند مخالفین کو تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے کو ترک کرنے کے بارے میں کوف مین کہتے ہیں کہ یہ ’باعث شرمندگی ہے۔‘

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ صرف پروگرام اور منصوبہ ہی ختم نہیں ہو رہا بلکہ شام کے بارے میں امریکہ کی حکمت عملی کو بھی خطرہ ہے۔‘

’سی آئی اے کے تحت ہتھیاروں کی ترسیل کا سلسلہ جاری رہے گا اور ممکنہ طور پر پینٹاگون کی جانب سے 50 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں کے لیے جہازوں سےگرائے جانے والے ہتھیاروں میں بدل جائے گی اور شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے عمومی طور پر زیادہ لبرل پالیسی دیکھنے میں آئے گی۔‘

اس بات کے کیا امکانات ہیں کہ صدر بشارالاشد پر دباؤ میں کمی آنے کے بعد روس فضائی حملوں کے تیسرے مرحلے میں دولت اسلامیہ کو نشانہ بنائے گا؟

مائیکل کوف مین کو اس کے آثار نظر نہیں آتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا نہیں خیال کہ روس دولت اسلامیہ کے خلاف کوئی معنی خیز کارروائی کرے گا۔ ماسکو کے نزدیک یہ امریکہ اور ان کے کرد اتحادیوں کا مسئلہ ہے۔‘

’ماسکو کی نظر میں مثالی منظر نامہ یہ بنتا ہے کہ شام میں دولت اسلامیہ اور شام کی حکومت کے درمیان جاری تنازعے میں ان کا کوئی کردار نہ ہو، وہ صدر اسد کی حکومت کو مضبوط کردیں جبکہ دوسری واحد طاقت دولت اسلامیہ رہ جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس کو شام میں مداخلت کرنے پر کئی سنی ممالک جن میں لبنان بھی شامل ہے شدید مخلافت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

دمیتیری گورن برگ بھی اس بات کی تائید کرتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فی الحال دولت اسلامیہ روس کے صدر ولادی میرو پوتن کی نظروں میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ فوری طور پر یہ کوئی بڑا مسئلہ ہے لیکن پوتن اس بات کو ضرور یقینی بنائیں گے کہ بین الاقوامی میڈیا یہ نہ سمجھے کہ ان کے حملوں سے دولت اسلامیہ کو مدد مل رہی ہے۔‘

’اس لیے میں دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں میں اضافہ ضرور دیکھتا ہوں۔ بلکہ ابھی بھی ایسا نہیں ہے کہ روس دولت اسلامیہ پر حملوں سے اجتناب برت رہا ہو، اصل میں وہ ان کے ترجیحی علاقوں میں شامل نہیں ہیں۔‘

شامی حکومت کی واضح حمایت کر کے صدر پوتن ماسکو کو علاقے میں جاری ایران کے خلاف سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ پراکسی وار کا حصہ بنا رہے ہیں۔

میں نے جتنے بھی تجزیہ کاروں سے بات کی ہے ان میں سے کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ روس کی شمولیت سے اس تنازعے کے حل میں کوئی پیش رفت ہوگی۔

کوف مین کہتے ہیں کہ ’شام ختم ہو چکا ہے اور اب اس کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جکا سکتا۔‘

جبکہ لینڈس کہتے ہیں کہ شام کے حوالے سے مغرب کی موجودہ پالیسی بہت سادہ ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ تصور کہ اسد کو ہٹایا جا سکتا ہے اور ریاست کے اداروں کو بچایا جا سکتا ہے افسانوی بات ہے۔‘

’بدقسمتی سے مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر ریاستیں شخصیت پرستی پر قائم ہیں۔

’اگر آپ ان شخصیت یا ان کے خاندان کو ختم کرتے ہیں تو آپ کو ریاست کو بھی ختم کرنا پڑے گا۔‘

’سعودی عرب کو وہاں کے شاہی خاندان کے بغیر اور اردن کو ہاشمیوں کے بغیر تصور کر کے دیکھیں۔‘

اسی بارے میں