غربِ اردن اور غزہ میں پھر کشیدگی، تین فلسطینی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور پرتشدد واقعات میں اب تک 34 فلسطینی اور سات اسرائیلی مارے جا چکے ہیں

فلسطینی حکام کے مطابق غربِ اردن اور غزہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں مزید تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

طبی حکام کے مطابق غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو فلسطینی مارے گئے۔

ادھر غربِ اردن میں خود کو صحافی بتانے والے ایک فلسطینی نے ایک فوجی کو چاقو مار کر زخمی کر دیا جسے بعد میں گولی مار دی گئی۔

یہودیوں کا مقدس مقام نذرِ آتش، غربِ اردن میں کشیدگی

نتن یاہو کا یروشلم میں تشدد کم کرنے کیلیے مذاکرات پر زور

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور پرتشدد واقعات میں اب تک 34 فلسطینی اور سات اسرائیلی مارے جا چکے ہیں۔

فلسطین کے طبی ذرائع کے مطابق جمعے کو غربِ اردن، رمالہ اور نابلوس میں ہونے والے پرتشدد ہنگاموں میں ایک فلسطینی مارا گیا۔

غزہ میں فلسطین کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ تشدد کے دیگر واقعات میں دو فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اسے پہلے فلسطینی مظاہرین نے غربِ اردن میں یہودیوں کے ایک مقدس مقام کو آگ لگا دی تھی۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے یہودیوں کے مقدس مقام کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبرے کو جلایا جانا ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔

پیغمبر یوسف کے مزار کو آگ لگائے جانے کا واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب نابلوس کے قصبے میں پیش آیا۔

درجنوں مظاہرین نے حضرت یوسف سے منسوب اس مقام پر پیٹرول بم پھینکے جس سے اس میں آگ لگ گئی۔

فلسطینی فائربریگیڈ کے عملے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ تو بجھا دی لیکن اس وقت تک عبادت گاہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل پیٹر لرنر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ کارروائی عبادت کے بنیادی حق کے خلاف کیا جانے والا دانستہ حملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اسرائیلی سکیورٹی فورسز ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گی اور اس مقام کو بحال کیا جائے گا۔‘

یہ واقعہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو کی جانب سے فلسطین کے صدر محمود عباس پر یروشلم میں جاری حالیہ تشدد کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر زور دینے کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔

اسی بارے میں