ترکی: ’معاہدے پر عمل کیسے ہوگا یہ طے نہیں ہو سکا‘

ترکی کے حکام نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن کے بحران پر یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ جس معاہدے پر اتفاق کیا ہے اسے ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی کی جانب سے پناہ گزینوں کی آمد روکنے کی صورت میں ترک باشندوں کو ویزوں میں رعایت دینے کے حوالے سے تیز کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے اور مزید امداد پر بھی اتفاق کیا ہے۔

پناہ گزینوں کا بحران: یورپی یونین ترکی سے معاہدے کی حامی

پناہ گزینوں کے بحران پر یورپی یونین اور ترکی کے مذاکرات

تاہم ترکی کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جس معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے وہ ابھی ایک ڈرافٹ کی شکل میں ہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے یورپی یونین کے مجوزہ مالی اقدامات کو’اقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے پناہ گزینوں کے بحران پر یورپ کے رد عمل پر شدید تنقید کی تھی۔

ان کے بقول یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ 30,000 سے 40,000 پناہ گزینوں کو لیں گے جس کے بعد انھیں نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا جاتا ہے لیکن ہم 25 لاکھ پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں تاہم کسی کو ہماری پروا نہیں ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپی یونین پہنچے ہیں جن میں سے زیادہ تر ترکی سے یونان کے راستے شمال کی جانب بڑھے ہیں۔

ادھر ہنگری نے جعمے کو اعلان کیا ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات (گرینج کے مطابق 22:00 ) کو کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ ہنگری نے گذشتہ ماہ سربیا کےساتھ بھی اپنی سرحد کو بند کر دیا تھا۔

اسی بارے میں