برطانیہ کا انتہا پسندی سے لڑنے والے گروہوں کے لیے امداد کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اپنی جماعت کنزرویٹیو پارٹی کی ایک کانفرس میں انتہا پسندی کو خاموشی سے برداشت کرنے والوں پر پہلے بھی نکتہ چینی کر چکے ہیں

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ جو تنظیمیں برطانیہ میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں حکومت ان کی معاونت کے لیے 50 لاکھ پاونڈ کا فنڈ دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مالی معاونت اور خیرات سے لوگوں کے ذہنوں میں جو نفرت کے بیج بوئے جاتے ہیں انھیں روکنے میں مدد ملے گی۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت انتہا پسندی کے خلاف اپنی باقاعدہ حکمت علمی کا اعلان پیر کو کرنے والی ہے۔

اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے اپنی جماعت کنزر ویٹیو پارٹی کی ایک کانفرس میں انتہا پسندی کو خاموشی سے برداشت کرنے والوں پر نکتہ چینی کی تھی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 50 لاکھ پاونڈ کی رقم سے ’ملک بھر میں زمینی سطح پر تنظیموں کا نیٹ ورک تیارکیا جائے گا۔‘

ایسی تنظیموں کو ان کی وسعت کے مطابق امداد فراہم کی جائے گی اور انتہا پسندوں کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل مواد کی تخلیق میں ان کی مدد کی جائے گی۔ اس میں سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور دیگر تکنیکی سطح کی تربیت بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیمرون کے مطابق انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ملک گیر سطح پر تنظیموں میں اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ موثر حکمت علی اپنائی جا سکے

ڈیوڈ کیمرون کہا: ’ہمیں انتہا پسندی اور وہ نظریات جو اس کو پروان چڑھاتے ہیں کا منظم طریقے سے مقابلہ کرنا ہو گا۔ جھوٹ اور اس کے نتیجے میں ہونی والی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنا ہے۔‘

’ہمیں اسے آغاز میں ہی روکنا ہوگا، نفرت کے اس بیج کو لوگوں کے ذہنوں میں بونے سے پہلے ختم کرنا ہوگا اور اس کی افزائش کے لیے آکسیجن پہچانے والے راستوں کو مسدود کرنا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف اس حکمت علی سے پر تشدد اور پر امن دونوں طرح کی انتہا پسندی کو نشانہ بنا یا جائے گا اور مرکزی دھارے میں شامل آوازوں کی حمایت کی جائے گي۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’ہمیں الگ تھلگ پڑے رہنے اور اجنیبیت کے احساس کے مسائل کو بھی ختم کرنا ہو گا، جو سخت گیر نظریات کی نشوو نما کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔‘

توقع ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت انتہا پسندی پر مبنی آن لائن پروپیگنڈے کو ہٹانے کے لیے اسی نظام کے تحت پولیس اور انٹرنیٹ کمپنیاں ایک ساتھ کام کریں گی جیسے کم عمر بچوں کے فحش مواد کو ہٹانے کے لیے ایک ساتھ کام کیا گيا تھا۔

قید خانوں میں مقید سخت گیر قیدیوں پر بھی لگام لگائی جائے گی، یونیورسٹیوں پر توجہ دی جائےگی اور جو سکول اس سلسلے میں طلبا کے ساتھ بہتر کام کریں گے انہیں مالی مدد مہیا کی جائے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا: ’اس کا بنیادی مقصد قومی سطح پر افراد اور ان تنظیموں پر مشتمل ایک ایسے اتحاد کو تشکیل دینا ہے جو انتہا پسندی کے خاتمے اور ایک اچھے متحدہ معاشرے کی تعمیر کے لیے پر عزم ہیں۔‘

اسی برس وزیر داخلہ تھیرسا مے نے کہا تھا کہ برطانیہ اب ان سخت گیر اسلام پسندوں کے رویے کو برداشت نہیں گرےگا جو’ ہماری قدروں کو مسترد کرتے ہیں۔‘

محمکمہ پولیس میں میں انٹر نیٹ پر انسداد ہشت گردی کے عملے کے مطابق سنہ 2010 سے انٹرنیٹ سے انتہا پسندوں کے پرواپیگنڈے پر مبنی تقریبا ایک لاکھ دس ہزارمضامین ہٹائے ہیں۔ اور تقریبا 38000 ہزار تو اس برس ہی ہٹائے جا چکے ہیں۔

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑنے یا اسلامی تنظیموں کی حمایت کے لیے تقریبا 700 لوگ اب تک برطانیہ سے شام یا عراق جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں