شام میں امریکی حملے میں’القاعدہ کے سینیئر رہنما ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پینٹاگون کے مطابق صنعافی النصر مشرقِ وسطی سے رقوم حاصل کر کے اس کو عراق اور پھر وہاں سے القاعدہ کو منتقل کرتے تھے

امریکی حکام کے مطابق شام کے شمالی مغربی علاقے میں کیے جانے والے فضائی حملے میں القاعدہ سے منسلک ایک شدت پسند گروپ کے سینیئر رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق فضائی حملے میں خراسان نامی گروپ کے رہنما اور سعودی شہری صنعافی النصر ہلاک ہوئے ہیں۔

پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الصنر القاعدہ کے لیے مالی وسائل جمع کرتے تھے اور مغرب میں کارروائیوں کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی کرتے تھے۔

امریکی دعوے کے برعکس بعض اطلاعات کے مطابق خراسان گروپ کے رہنما کی ہلاکت کی خبر غلط ثابت ہو سکتی ہے۔

جولائی میں امریکہ نے خراسان گروپ کے رہنما محسن الفداہی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس سے پہلے ان کو 2014 میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جا چکا تھا۔

پینٹاگون کے مطابق صنعافی النصر مشرقِ وسطی سے رقوم حاصل کر کے اس کو عراق اور پھر وہاں سے القاعدہ کو منتقل کرتے تھے۔

اس کے علاوہ یہ نتظیم میں نئی بھرتیاں کرنے اور پھر ان انھیں پاکستان سے ترکی کے راستے شام لانے کے انتظامات کرتے تھے۔

برطانیہ سے شام میں حقوق انسانی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق صنعافی النصر جمعے کو شام کے صوبہ حلب میں مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں