چین برطانیہ سے چاہتا کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صدر شی جِن پنگ کے پہلے دورۂ برطانیہ کے موقعے پر ان کے لیے سرخ قالین بچھایا جا چکا ہے

وقت کتنا بدل گیا ہے۔

جون سنہ 2013 میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بی بی بی کی عالمی سروس نے اپنے پروگرام ’آپ کی رائے‘ میں مدعو کیا تھا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل تھی جنھیں ڈیوڈ کیمرون سے سوالات پوچھنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

جب میں اور وزیرِ اعظم دونوں اپنا اپنا کام کر چکے اور ہال میں حاضرین گپ شپ لگا رہے تھے تو میں نے ڈیوڈ کیمرون سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جو میرے ذہن پر سوار تھا۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی وہ چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں؟ یاد رہے یہ وہ وقت تھا جب چین اور برطانیہ کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار تھے۔ دونوں اطراف سے دورے منسوخ کیے جا چکے تھے اور مذاکرات کے دور بھی۔ اس تمام جھگڑے کی بنیاد یہ تھی کہ سنہ 2012 میں ڈیوڈ کیمرون دلائی لاما سے ملاقات کر چکے تھے۔

وزیر اعظم میرے سوال پر مسکرائے اور گویا ہوئے: ’آپ فکر نہ کریں۔ تمام معاملات طے ہو چکے ہیں اور اس سال کے ختم ہونے سے پہلے میرا دورہ ہو جائے گا۔‘

اور پھر یہی ہوا اور دسمبر کے اوائل میں وزیرِ اعظم بیجنگ چلے گئے۔ اس دورے میں کئی معاہدے ہوئے، پھر چینی زبان کی معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ ’ویبو‘ پر اس دورے کے حوالے سے لوگوں نے خوب بحث بھی کی اور آخر چین اور برطانیہ کے باہمی تعلقات ایک مرتبہ پھر پٹری پر چڑھ گئے۔

سنہری دور

اور آج وہ دن بھی آ گیا ہے جب چین کے صدر شی جِن پنگ کے پہلے دورۂ برطانیہ کے موقعے پر لندن میں ان کے لیے سرخ قالین بچھایا جا چکا ہے اور وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے بقول ’چین اور برطانیہ کے تعلقات کا سنہری دور‘ شروع ہو چکا ہے۔ برطانیہ کے اخبارات میں دھواں دھار بحث ہو رہی ہے کہ برطانیہ کس طرح چینی صدر کے اس دورے سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دسمبر 2013 کے اوائل میں وزیرِ اعظم برطانیہ نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا

دوسری جانب چین میں بھی اس دورے کے حوالے سے خاصی گہماگہمی دکھائی دے رہی ہے اور چین کے ذرائع ابلاغ میں صدر شی کے دورے کی تفصیلات اور اس حوالے سے مختلف تجزیے، تبصرے اور تصاویر شائع ہو رہی ہیں۔ . شاید یہ پہلا موقع ہے کہ چین میں ملک کے سب سے بڑے رہنما کے دورۂ برطانیہ کو اُتنی، یا شاید اس سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جو چینی رہنماؤں کے دورۂ امریکہ کو دی جاتی ہے۔

اس جوش وخروش کی وجہ کیا ہے؟ برطانیہ کے ساتھ بہتر تعلقات سے چین کو کیا توقعات ہو سکتی ہیں؟

اپنے اس دورے کے بارے میں صدر شی نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو جو تحریر شدہ انٹریو دیا ہے اس میں انھوں نے برطانیہ کی تعریف کی ہے کہ وہ مغرب میں چین کا بہترین ساتھی بننے پر رضامند ہے۔ صدر شی کا خیال ہے کہ برطانیہ نے اپنے لیے جس راستے کا ’انتخاب کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ دور اندیش ہے کیونکہ اسی طرح برطانیہ اپنے طویل المدتی مفادات کے حصول کو یقینی بنا سکتا ہے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب چین اور امریکہ کے تعلقات شدید مشکل دور سے گزر رہے ہیں، چین میں برطانیہ کو ایک ایسی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو امریکہ کے ساتھ اس کے بگڑتے تعلقات کا بدل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے ساتھ بہتر تعلقات کو چین یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کا راستہ بھی سمجھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر شی کے دورے کے دوران تخلیقی صنعت، تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں بھی معاہدے ہوں گے

اگر آپ ان حقائق کو مد نظر رکھیں کہ امریکہ کی جانب سے شکوک کے باوجود برطانیہ وہ پہلا مغربی ملک تھا جس نے چین کی قیادت میں بننے والے ’ایشیا انفراسٹرکچر بینک‘ کی رکنیت حاصل کی اور انسانی حقوق کی تنطیموں کی شدید تنقید کے باوجود برطانوی وزیرِ خزانہ چین کا دورے کر چکے ہیں، تو آپ کو صاف دکھائی دیتا ہے کہ برطانوی حکومت مصصم ارادہ کر چکی ہے کہ وہ وہی کرے گی جو اس کے خیال میں برطانیہ کے بہترین مفاد میں ہوگا۔

سب کا فائدہ

چین کے ایک معروف تھنک ٹینک سے منسلک مسٹر فینگ ژونگ پنگ نے بی بی سے کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’جہاں تک عالمی سطح پر چین کے ابھرتے ہوئے کردار کا تعلق ہے تو اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے باقی دنیا کے لیے اچھے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ دیگر لوگ اسے کئی ممالک کے لیے ایک امتحان یا چیلنج سے تعبیر کرتے ہیں۔

’برطانوی حکومت ان لوگوں میں شامل ہے جس کی نظر چین کے ابھرتے ہوئے کردار کے ساتھ منسلک مواقع اور فوائد پر ہے۔‘

چین سمجھتا ہے کہ اگر برطانیہ کے ساتھ تعلقات سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھانا ہے تو اس کے لیے بہترین وقت آج ہے کیونکہ لوہا گرم ہے۔

ایک چیز جس پر چین جلد از جلد اپنا ہاتھ رکھنا چاہتا ہے، وہ برطانیہ کے انفراسٹرکچر یا ذرائع آمدورفت وغیرہ کے منصوبے ہیں۔

برطانیہ میں چین کے سفیر کے بقول وزیر خزانہ جارج اوزبورن کے اس اعلان کے بعد کہ برطانوی حکومت ہنکلی پوائنٹ نیوکلیئر پلانٹ کی ضمانت مستحکم کرنے کے لیے چین کو دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کرے گا، دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات میں ’خاطر خواہ پیش رفت‘ ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ چین کو توقع ہے کہ برطانیہ اسے ریلوے کے بڑے منصوبے (ایچ ایس2) میں بھی سرمایہ کرنے کی اجازت دے دے گا۔

ان منصوبوں سے برطانیہ میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کے کام میں بہت اضافہ ہو جائے گا جس سے چین کو خاصا مالی فائدہ ہو گا۔

چین کے ساتھ تعاون کے بعد برطانیہ کا مالیات یا فنانس کا شعبہ بھی خاصا مستفید ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے لندن میں موجود ایک چینی بینک نے چینی کرنسی میں سرکاری بانڈز جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔

لندن مغربی دنیا کا وہ پہلا شہر بن گیا ہے جہاں چینی کرنسی میں بین الاقوامی تجارت کی کلیئرنس اور تبادلۂ زر کا کام ہو رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان مالیات کے شعبے میں تعاون یوں ہی جاری رہا تو ایک دن ایسا بھی ہو سکتا ہے جب لندن اور شنگھائی کے بازارِ حصص ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے اور یوں دونوں ممالک کے سرمایہ کار ایک دوسرے کے ہاں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

صدر شی کے دورے کے دوران تخلیقی صنعت، تعلیم اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں بھی معاہدے ہوں گے اور یہ وہ شعبے ہیں جن کے بارے میں چین کا خیال ہے کہ برطانیہ ان شعبوں میں اس سے بہتر ہے اور وہ ان شعبوں میں برطانوی تعاون سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سرکاری سطح پر چینی صدر کے دورے کی گہماگہمی کے علاوہ عام چینی بھی اپنے صدر کے دورۂ برطانیہ سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ چین کی مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ’ویبو‘ پر اس وقت جس موضوع پر سب سے زیادہ بات ہو رہی ہے وہ صدر کا دورہ ہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چینی عوام برطانیہ کی سیر کے لیے ویزوں میں آسانی کی خواہش مند ہے

صدر شی کے دورے کی تفصیلات کے علاوہ، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے تاریخی دوروں کی تصاویر، برطانیہ میں اشرافیہ کے ساتھ بات کیسے کرتے ہیں، انگریزی ادب آداب کیا ہوتے ہیں، اور یہ کہ مشہور انگریزی شو ’شرلک ہومز‘ کی اگلی قسطیں چین میں کب دیکھی جا سکیں گی، الغرض لوگ ہر موضوع پر خوب بحث کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی چینی سروس کے ساتھیوں نے بیجنگ میں کچھ لوگوں سے بات کی تو انھوں نے جن خواہشات کا اظہار کیا ان میں برطانیہ کی سیر کے لیے ویزوں میں آسانی، چین میں فیس بُک، یو ٹیوب اور جی میل پر عائد پابندی کا خاتمہ اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی طائفوں کے تبادلے جیسی خواہشات سرفہرست تھیں۔

ہاں فٹمبال کو مت بھولیے۔

روئٹرز کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر شی کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ چین کی فٹ بال ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک بن جائے گی۔ صدر کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں، کوچوں اور ریفریئوں کی تربیت کے شعبے میں چین اور برطانیہ کے درمیان تعاون کے بہت امکانات موجود ہیں۔ اپنے دورے کے آخری دن صدر شی مانچسٹر سٹی فٹ بال کلب کا دورہ بھی کریں گے اور اس وقت ہر کسی کی نظر اسی پر ہوگی کہ صدر فٹبال کو کِک لگائیں گے یا نہیں۔

اسی بارے میں