تارکین وطن کا بحران: کروئیشیا نے سربیا سے متصل سرحد کھول دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان تارکین وطن کی حالت ’ہولناک‘ ہے

کروئیشیا نے سربیا کے ساتھ متصل اپنی سرحد کھول دی ہے جس سے ہزاروں کی تعداد میں محصور تارکین وطن کو شمال کی جانب جانے کا راستہ مہیا ہو گیا ہے۔

تقریباً تین ہزار کے قریب افراد کوئیشیا کی جانب سے کیے جانے والے نئے اقدامات اور سرحدی راستوں کی بندش کی وجہ سے سرد موسم اور بارش میں بلقان کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

ہزاروں تارکینِ وطن بلقان میں سرحدوں پر محصور

ہنگری کی سرحد بند، ہزاروں پناہ گزینوں کی سلووینیا آمد

جرمنی براستہ بلقان کیوں؟

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ان تارکین وطن کی حالت ’ہولناک‘ ہے۔

بہت سارے تارکین وطن کوئیشیا اور سلووینیا کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ بلقان کا راستے پر وہاں کی حکومتوں کی جانب سے سختی کی گئی ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بہت سارے تارکین وطن کوئشیا اور سلوینیا کی سرحد پر محصور ہو کر رہ گئے تھے

پیر کو برکاسوو کی سرحد پر موجود اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان میلٹا سنجک نے بتایا کہ ’بغیر کسی اعلان کے سرحدیں کھول دی گئی ہیں۔ ہر کوئی جلدی سے جا رہا ہے۔‘

وہاں کے حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہاں بہت زیادہ چھوٹے بچے ہیں، ہمارے پاس معذور افراد ہیں، ہمارے پاس ایسے افراد ہیں جو سفر کے دوران بیمار ہوگئے ہیں۔‘

’یہ لوگوں کے رہنے کے جگہ نہیں ہے، وہ سو نہیں سکتے۔ وہ گیلی مٹی میں صرف کھڑے رہ سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئشیا کی بسیں اب ہزاروں کو تعداد میں تارکین وطن کو قریب ہی واقع ایک ریسپشن سینٹر لے جا رہی ہیں

کوئشیا کی بسیں اب ہزاروں کو تعداد میں تارکین وطن کو قریب ہی واقع ایک ریسپشن سینٹر لے جا رہی ہیں۔

گذشتہ دنوں کروئشیا نے تارکین وطن کی آمد کو محدود کر دیا تھا، جب ہنگری نے سلووینیا کے ساتھ متصل اپنی سرحد کو بند کرتے ہوئے پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا تھا کہ بڑی تعداد میں تارکین وطن کروئیشیا میں محصور ہوجائیں گے۔

حالیہ دنوں میں کروئیشیا نے تارکین وطن سے بھری کم از کم دو ٹرینیں اور متعدد بسیں شمال کی جانب سلووینیا کی سرحد پر بھیجی ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ چند ماہ میں شام افریقہ اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی لاکھ مہاجرین ترکی سے بلقان کے راستے جرمنی سویڈن اور دوسرے یورپی ممالک پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں