اریٹیریا کے شہری پر تشدد کرنے والے اسرائیلیوں کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے وہ ان افراد کو تلاش کر رہی ہے جنھوں نے جنوبی شہر بئرالسبع میں اتوار کی شب بس اڈے پر حملے کے بعد وہاں موجود اریٹیریا کے ایک شہری کو حملہ آور سمجھ کر اس پر تشدد کیا تھا۔

اس شخص کو اڈے پر تعینات محافظ نے غلطی سے حملہ آور کا ساتھی سمجھ کر گولی مار دی تھی۔

یروشلم: خوف اور نفرت سے بھرا شہر

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ: ویڈیو رپورٹ

حرم الشریف کا جھگڑا کیا ہے؟: ویڈیو رپورٹ

فلسطینی مزاحمتی تحریکوں پر ایک نظر: ویڈیو رپورٹ

زخمی ہونے کے بعد اسے وہاں موجود اسرائیلی شہریوں کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا۔

موقع پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ شخص خون میں لت پت پڑا ہے اور لوگ اسے مار رہے ہیں۔

ویڈیو میں کچھ افراد کو اس شخص کو بچانے کی کوشش کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے تاہم وہاں موجود اکثر افراد اس پر تشدد میں شامل تھے اور انھوں نے اس کے سر پر ٹھوکریں ماریں۔

اسرائیلی پولیس نے اب اس شخص پر تشدد کرنے والے افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں ماہ تشدد کے کئی واقعات میں آٹھ اسرائیلی اور حملہ آوروں سمیت 40 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں

مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی کی عالمی سروس کے مدیر سباسچیئن اشر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقع ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال کتنی خراب ہو چکی ہے۔

خیال رہے کہ بس اڈے پر ہونے والے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا تھا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور کو بھی ہلاک کر دیا گیا جو اسرائیلی عرب تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار یہ حملہ اسرائیلیوں کے لیے اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ یہ حملہ اس کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں نہیں بلکہ اسرائیلی علاقے کے اندر ہوا ہے۔

رواں ماہ تشدد کے سلسلہ وار واقعات میں آٹھ اسرائیلی اور حملہ آوروں سمیت 40 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غرب اردن اور یروشلم میں سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے اور یہاں فلسطینی مظاہرین کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپیں جاری ہیں۔

اسی بارے میں