’اس رشتے میں کیا رہ گیا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف سے اپنی ملاقات کے دوران اباما طالبان کو مذاكرات پر راضی کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے بھی کہیں گے

وزیر اعظم پاكستان نواز شریف ایک ایسے ماحول میں واشنگٹن پہنچے ہیں کہ جب صدر اوباما کو ایک انتہائی مشکل فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی روکنے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔

اوباما نے ایک طرف یہ کہا کہ افغانستان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال کی وجہ سے انھیں یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، وہیں دوسری طرف انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوج کی موجودگی اس کا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہوگا اور نواز شریف سے اپنی ملاقات کے دوران اوباما طالبان کو مذاكرات پر راضی کروانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے بھی کہیں گے۔

جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کو دونوں رہنما جب وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے، تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بات چیت کا سب سے بڑا مسئلہ افغانستان ہی ہوگا۔

افغانستان میں جاری جنگ میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے اور واشنگٹن اکثر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ پاکستانی فوج کے افغان طالبان، خاص طور سے حقانی نیٹ ورک، کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔

اوباما انتظامیہ میں افغانستان اور پاکستان سے متعلق پالیسیوں کی بنیاد ركھنے والے بروس رائیڈل کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی فوج افغان طالبان کی مدد نہیں کر رہی ہوتی تو افغانستان کے جنگ کا قصہ کچھ اور ہی ہوتا۔

ان کا کہنا ہے: ’اس ملاقات میں اوباما نواز شریف کو مسائل کے طور پر تو نہیں دیکھیں گے لیکن انھیں ایک حل کی طرح بھی نہیں دیکھا جائے گا۔‘

اپنی بات کو سمجھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مسائل‘ اس لیے نہیں کیونکہ طالبان کا ساتھ نواز شریف نہیں پاکستانی فوج دیتی ہے۔ ’حل‘ اس لیے نہیں کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ فوج وہ کرے گی جو نواز شریف ان سے کروانا چاہتے ہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے لیے برسوں تک کام کرنے والے اور چار امریکی صدور کے مشیر رہنے والے رائیڈل کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کو بغیر کسی لاگ لپیٹ کے نواز شریف کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اگر پاکستانی فوج افغان طالبان کا ساتھ نہیں چھوڑے گی تو انھیں ملنے والي امریکی فوجی مدد بند کر دی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوباما نواز شریف کو مسائل کے طور پر تو نہیں دیکھیں گے لیکن انہیں ایک حل کی طرح بھی نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ معاملات فوج کنٹرول کرتی ہے

ان کا کہنا تھا: ’ہمارے پاس اب یہی ایک راستہ ہے اور اسے استعمال کرنے کا وقت بہت پہلے آ چکا ہے۔‘

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس جب دو ماہ قبل پاکستان گئی تھیں تو انھوں نے بھی یہی پیغام دیا تھا اور حقانی نیٹ ورک کا خاص طور سے ذکر کیا تھا لیکن پاکستانی پالیسی میں اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اور آج جبكہ سعودی عرب سے پاکستان کو معاشي مدد مل رہی ہے، چین سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے تو کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ یہ دھمکی کچھ معنی بھی رکھتی ہے؟

وائٹ ہاؤس میں پاکستانی ڈیسک کی سابق ڈائریکٹر شمائلہ چودھری کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے لیے یہ بہت معنی رکھتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم واحد ملک ہیں جو کسی ایک ادارے کو اتنی بڑی رقم دیتے ہیں اور پاکستانی فوج کے بجٹ کا یہ ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption واشنگٹن میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے کسی نہ کسی طرح کا تعلق برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان جہاں ایک جوہری طاقت ہے وہیں اس کے جوہری ہتھیار بنانے کی رفتار بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے

ایک اندازے کے مطابق اس برس امریکہ نے پاکستان کو 60 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ کی فوجی مدد دی ہے اور گذشتہ 14 برسوں میں صرف فوجی مدد 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی رہی ہے۔

شمائلہ چودھری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنی ملاقات کے دوران اس فوجی امداد کو جاری رکھنے کا مطالبہ تو کریں گے ہی ساتھ ہی دوسرے معاشي پیکیجز کا بھی مطالبہ کریں گے۔

واشنگٹن میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے کسی نہ کسی طرح کا تعلق برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان جہاں ایک جوہری طاقت ہے وہیں اس کے جوہری ہتھیار بنانے کی رفتار بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

امریکہ میں اس بات کو لے کر تشویش رہتی ہے کہ پاکستانی جوہری ہتھیار کہیں غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جائیں اور باور کیا جاتا ہے کہ اوباما اس معاملے کو نواز شریف کے ساتھ بات چیت کے دوران اٹھائیں گے۔

گذشتہ چند روز میں امریکی ذرائع ابلاغ شائع ہونے والی خبروں کے مطابق وائٹ ہاؤس ایک ایسے معاہدے کی بھی بات کر سکتا ہے جس سے پاکستان کے ہتھیاروں پر پابندی لگائی جا سکے اور اس کے بدلے میں اسے جوہری تجارت کو کنٹرول کرنے والے ادارے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل کرنے کے لیے نرم رخ اپنایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان میں سرگرم طالبان امریکہ کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس بارے میں پاکستان اس کا ساتھ دے تاکہ افغانستان کو مستحکم کیا جا سکے

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا: ’جس طرح کے معاہدے کی بات ہر جگہ ہو رہی ہے، اگلے ہفتے کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے گا یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن امریکہ اور پاکستان جوہری ہتھیاروں کی سكیورٹي پر مسلسل بات کرتے رہے ہیں۔‘

دیکھا جائے تو وزیر اعظم نواز شریف کا یہ دورہ گذشتہ دورے سے بالکل مختلف ہے جب وہ نئے نئے متخب ہوکر آئے تھے اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو فوجی دائرے سے نکال کر ایک نئے مقام تک لے جانے کی بات کر رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج وہ سیاسی طور پر کمزور نظر آ رہے ہیں اور کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں دکھ رہے ہیں تو کہا جا رہا ہے کہ وہ فوج کی لکھی ہوئی سکرپٹ پر ہی عمل کریں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستانی اہلکار کہہ رہے ہیں کہ یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا اور نواز شریف امریکی سرمایہ کاری اور دوسرے معاشی پہلوؤں کے علاوہ بھارت کے ساتھ بات چیت میں امریکی مدد کی بھی بات کریں گے۔ لیکن ذاتی طور پر بات کرتے وقت ان میں یہ جوش نہیں نظر آ رہا ہے۔

ایک پاکستانی اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس رشتے کی خاصیت یہ بن گئی ہے کہ جب بھی کوئی بڑا رہنما پاکستان سے آنے والا ہوتا ہے تو امریکی اتنا دباؤ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اپنی لسٹ سامنے لا ہی نہ سکیں اور صرف انھیں کی سن کر رہ جائیں۔‘

وہیں ایک سابق امریکی اہلكار کا کہنا ہے کہ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ آج کسی کو یہ نہیں معلوم کہ اس رشتے میں رہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں