شام میں روس کے فضائی حملے، کم سے کم 45 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لذاقیہ صوبے کا شمار صدر بشار الاسد اور علوی فرقے کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں ہوتا ہے

شام کے شمال مغربی علاقے میں روس نے فضائی حملے کیے ہیں جن میں کم سے کم 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ فضائی حملے باغیوں کا گڑھ کہلائے جانے والے علاقے میں کیے گئے۔

سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ روس کے جنگی طیاروں نے پیر کو لذاقیہ صوبے میں جبل الخرد پر بمباری کی۔ اس حملے میں مغربی حمایت یافتہ تنظیم فیری سیریئن آرمی کے کمانڈر اور باغیوں کے خاندان کے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں روس کے بڑھتے ہوئے مفادات

روس کا کہنا ہے کہ اُس نے فضائی حملوں میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس ساحلی صوبے میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کم ہی ہے۔

لذاقیہ صوبے کا شمار صدر بشار الاسد اور علوی فرقے کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں ہوتا ہے۔

سنہ 2012 میں متعدل اور اسلامی رجحان رکھنے والے باغی تنظیموں نے جبل الخرد کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

روس کے جنگی طیاروں نے شام میں فضائی آپریشن شروع کرنے کے بعد سے کئی مرتبہ جبل الخرد کو نشانہ بنایا ہے۔

سیریئن آبزویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں اور زخمیوں کی حالت بھی تشویش ناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔

مقامی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حزبِ مخالف کے سرگرم گروہ کے مطابق اس حملے میں 57 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

روس کی بمباری میں ہلاک ہونے والے کمانڈر کی شناخت باذل زیمو کے نام سے ہوئی ہے اور وہ فری سیریئن آرمی کے ساحلی ڈویژن کے کمانڈر ہونے کے علاوہ شام کی فوج میں سابق کپتان بھی رہ چکے تھے۔

باغیوں کی حمایت کرنے کے امریکی منصوبے کے تحت فری سیریئن آرمی کی فرسٹ کوسٹل ڈویژن کو امریکہ کی جانب سے اینٹی ٹینک میزائل فراہم کیے گئے تھے۔

شام میں لڑنے والی ایک اور تنظیم نورالدین آلزینکی بریگیڈ کے ایک کمانڈر کو حلب میں اُس جگہ ہلاک کیا گیا جہاں حکومتی لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

اسی بارے میں