رواں سال پانچ لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کی یونان آمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونانی جزائر پر گذشتہ چار دن کے دوران 35 ہزار پناہ گزین پہنچے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ رواں برس یونان پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ان پناہ گزینوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے جو ان ممالک میں خانہ جنگی، تشدد اور خراب حالات کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

’مسئلے سے تنہا نمٹنے کی توقع رکھنا درست نہیں‘

تارکینِ وطن کی باز آبادکاری کا سلسلہ شروع

اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سرد موسم کے باوجود لیسبوس، چیئوس اور ساموس کے یونانی جزائر کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد کم نہیں ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق ان جزائر پر گذشتہ چار دن کے دوران 35 ہزار پناہ گزین پہنچے ہیں۔

یونانی حکام نے ان جزائر پر حالات قابو میں رکھنے کے لیے مزید پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ وہاں حالات ناگفتہ بہ ہیں۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارے نے ایک مرتبہ پھر یونان پہنچنے والے افراد کے لیے استقبالیہ مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپی یونین پہنچے ہیں

ادارے کا کہنا ہے کہ اگر ایسے مراکز فوری طور پر قائم نہ کیے گئے تو یورپی ممالک کی جانب سے پناہ گزینوں کی آباد کاری کا طے شدہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔

یورپی یونین کے منصوبے کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار تارکینِ وطن کو اٹلی، یونان اور یورپی یونین کے دیگر ممالک میں تقسیم کیا جائے گا۔

یو این ایچ سی آر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب شمالی یورپ کی جانب بڑھنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سلووینیا نے بھی یورپی یونین اور امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

سلووینیا کی حکومت نے ہزاروں پناہ گزینوں کو ملک پر ایک غیر متناسب بوجھ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ 20 لاکھ آبادی والے ایک ملک سے اس مسئلے سے تنہا نمٹنے کی توقع رکھنا درست نہیں جبکہ اس سے کہیں بڑے ملک اس سلسلے میں ناکام رہے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال تقریباً چھ لاکھ تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپی یونین پہنچے ہیں جن میں سے زیادہ تر ترکی سے یونان کے راستے شمال کی جانب بڑھے ہیں۔

حال ہی میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی کی جانب سے پناہ گزینوں کی یورپ آمد روکنے کی صورت میں ترک باشندوں کو ویزوں میں رعایات دینے پر اتفاق کیا ہے۔