’نہ جرمانہ، نہ جیل تو خون کا عطیہ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption نیو یارک ٹائمز نے جب جج وگنز سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا

امریکی ریاست الاباما کے ایک جج نے کہا ہے کہ مدعا علیہ اگر عدالت کی جانب سے لگائے گئے جرمانے کی رقم ادا نہیں کرسکتے تو وہ خون کا عطیہ دیں۔

ایک انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ جج نے کہا ہے کہ جج مارون نے کہا ’اگر آپ جرمانے کی رقم ادا نہیں کر سکتے اور جیل بھی جانا نہیں چاہتے تو خون کا عطیہ دینے کے بارے میں سوچیں۔‘

تنظیم کا کہنا ہے کہ جج کے اس بیان کے بعد 500 ایسے افراد نے خون کا عطیہ دیا جو جرمانے کی رقم ادا نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی جیل جانا چاہتے تھے۔

تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے جب جج وگنز سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

تنظیم کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں سارہ زیمپرین نے کہا ’الاباما میں ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر قانونی حقوق بینک اکاؤنٹس کے مطابق ہوتے ہیں۔ انصاف کا نظام ایک اس کے لیے ہے جو جرمانہ ادا کر سکتے ہیں اور دوسرا اس کے لیے جو نہیں کر سکتے۔ ہمیں غریب لوگوں کے ساتھ ناانصافی کو روکنا ہو گا۔‘

سارہ نے کہا کہ ان کی تنظیم نے جج وگنز کے خلاف شکایت کی ہے جو سرکٹ کورٹ میں 1999 سے جج ہیں۔