ٹروڈو کے بازو پر کوّے کا ٹیٹو

تصویر کے کاپی رائٹ Productions de la Ruelle
Image caption ایک عالمی رہنما کے جسم پر ٹیٹو کا نشان ہونا کتنا غیرمعمولی ہے

کینیڈا کے نومنتخب وزیراعظم 43 سالہ جسٹن ٹُروڈو کے بائیں بازو پر کندہ بڑا سا ٹیٹو کینیڈا کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

کینیڈا کی عوام جہاں سنہ 2011 میں لبرل پارٹی کی بدترین شکست کے بعد حالیہ انتخابات میں جسٹن ٹُروڈو کی قیادت میں واضح کامیابی سے حیران ہے وہیں یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا وہ دنیا کے واحد سربراہ ہیں جن کے جسم پر ٹیٹو ہے؟

انتخابات کی رات سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ان کی وہ تصویر جس میں کوّے کی شکل کا ٹیٹو دیکھا جا سکتا ہے، موضوعِ بحث رہی۔

ٹوئٹر پر کئی افراد نے اس بحث میں اپنا حصہ ڈالا، مثال کے طور پر @meg_shuler نے لکھا کہ ’ارے یہ تو کوّے کا ٹیٹو ہے! یہ تو دلچسپ شخصیت لگتے ہیں۔‘

ٹوئٹر کے ہی ایک اور صارف @aveek18 لکھتے ہیں ’کیا جسٹن ٹُروڈو ٹیٹو کروانے والے مغربی دنیا کے پہلے سربراہ ہیں؟‘

کوّے کی شکل کی علامت کینیڈا کے شمال مغربی بحرالکاہل کے مقامی قبیلے ہائیڈا کا نشان ہے۔

سنہ 2012 میں لبرل پارٹی کے رہنما ٹُروڈو نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’میرا ٹیٹو کا نشان ہائیڈا کے علامتی کوّے کے اندر سمویا ہوا ہمارہ سیارہ زمین ہے۔ جب میں 23 سال کا تھا تب میں نے کرہ ارض کا یہ نشان بنوایا تھا جبکہ میری 40 ویں سالگرہ کے موقع پر اس کے گرد کوّے کا ٹیٹو ( ویژوئل آرٹسٹ) رابرٹ ڈیوڈسن نے بنایا تھا۔‘

پس منظر میں دیکھیں تو ہائیڈا کے نشان کی کسی حد تک وجہ بھی سمجھ آتی ہے۔جسٹن ٹُروڈو کے والد پیئر ٹُروڈو کے دوسرے دور حکومت میں سنہ 1976 میں ٹُروڈو خاندان کو ہائیڈا قبیلے کا اعزازی رکن بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ٹوڈور حال ہی میں کینیڈا کے وزیرِاعظم منتخب ہوئے ہیں

ایک عالمی رہنما کے جسم پر ٹیٹو کا نشان ہونا کتنا غیرمعمولی ہے؟

کسی بھی عالمی رہنما کے بارے میں یقین سے یہ کہنا کہ ان کے جسم پر ٹیٹو کا کوئی نشان نہیں ہے مشکل بات ہے۔

ٹیٹوز کی مورّخ اینا فلی سیٹی فریڈمین کہتی ہیں وہ کسی ایسے رہنما کے بارے میں نہیں جانتیں جن کے جسم پر ٹیٹو ہو۔ خود کو ٹیٹو کا پروفیسر کہلوانے والے کیون گینون بھی یہی کہتے ہیں۔

تاہم ماضی میں کئی ایسے عالمی رہنما گزرے ہیں جن کے جسم پر ٹیٹو کے نشانات تھے۔

روسی زار نکولس دوئم نے سنہ 1891 میں جاپان کے دورے کے موقعے پر اپنے بازو پر ڈریگن کی شکل کا ٹیٹو بنوایا تھا جبکہ یوگوسلاویہ کے بادشاہ الیگزینڈر کی چھاتی پہ نقابتی عقاب کا ٹیٹو تھا۔

ڈنمارک کے بادشاہ فریڈرک نہم نے بحریہ میں گزارے ایّام کے دوران بحریہ سے متعلق کئی ٹیٹو اپنے جسم پر بنوائے تھے۔

برطانوی بادشاہوں میں جارج پنجم اور ایڈورڈ ہشتم کے بازوؤں پر یروشلم کی زیارت کی یادگار کے طور پر یروشلم کی صلیب کے ٹیٹو موجود تھے۔

امریکہ میں صدر ٹیڈی روز ویلٹ نے اپنی چھاتی پر اپنا خاندانی نشان گدوایا تھا جبکہ دیگر امریکی صدور جیمز پولک اور اینڈریو جیکسن کے جسم پر بھی ٹیٹو کے نشانات تھے۔

فریڈمین کہتی ہیں ’ٹُروڈو کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنا ٹیٹو عوام کے سامنے لانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔وہ دوسروں سے قدرے مختلف نظر آنے سے خوفزدہ بھی نہیں لگتے۔‘

ٹیٹو پروفیسر کیون گینون کا بھی یہی خیال ہے۔

وہ کہتے ہیں ’وزیراعظم ہونے کا مطلب ہے کہ وہ ایک بہت سنجیدہ شخصیت ہو۔ تاہم ان کا جوانوں والا جوش وخروش ایک تازگی کا احساس لیے ہوئے ہے اور ان کا ٹیٹو اس احساس کو مزید اجاگر کرتا ہے۔‘

ٹورنٹو یونیورسٹی کے عمرانیات کے پروفیسر اور کتاب ٹیٹوڈ: دی سوشیوجِینیسسز آف باڈی آرٹ کے مصنف مائیکل ایٹکنسن کہتے ہیں کہ کینیڈا کے کنزرویٹو جماعت کے حامی اور قدامت پسند ٹُروڈو کے ٹیٹو کو ان کے عہدے کے حوالے سے ناپختگی کی علامت کے طور پر دیکھیں گے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’وہ ایک ایسی نسل سے مخاطب ہیں جو ایسی قیادت چاہتی ہے جس کا معاشرتی رویوں کے حوالے سے انداز، سوجھ بوجھ، اور طریقہ کار مختلف ہو اور وہ جس سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں اس کے لیے ان کا ٹیٹو خود ان کے لیے بھی ایک اچھی علامت ہے۔‘

اسی بارے میں