’قلوپطرہ سانپ کے کاٹنے سے نہیں مری تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قلوپطرہ کی وفات 39 برس کی عمر میں ہوئی تھی

برطانہ میں مانچسٹر یونیورسٹی سے منسلک ماہرین نے اس کہانی کو ’ناممکن‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ قدیم مصر کی ملکہ قلوپطرہ کی موت سانپ کے کاٹنے سے ہوئی تھی۔

مصری امور اور سانپوں کے ماہرین نے مل کر اس جواز کو پرکھا کہ ملکہ کی موت انجیر کی ٹوکری میں چھپے کوبرا سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

ان کا خیال ہے کہ ملکہ اور دو کنیزوں کو کاٹنے والا سانپ اتنا چھوٹا نہیں ہوگا کہ اسے چھپایا جا سکے۔

اس کے علاوہ انھوں نے اس بات کی صداقت کو بھی چیلینج کیا ہے کہ انھیں تین بار مسلسل طور پر مہلک انداز میں کاٹا گیا۔

قلوپطرہ جو 30ویں صدی قبل مسیح میں 39 برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں مصر کی ملکہ تھیں۔

وہ سلطنت روم میں اقتدار کے جھگڑے میں الجھیں مگر ان کی کہانی اور ان کی موت کو ہالی وڈ کی فلموں اور ٹی وی کامیڈی میں ایک افسانوی صورت میں پیش کیا گیا۔

روم میں یہ روایت سننے کو ملتی رہی ہے کہ ان کی موت زہریلے سانپ کے حملے کے نتیجے میں ہوئی یا پھر انھوں نے خود ہی زہریلے سانپ سے خود کو ڈسوا لیا تھا۔

Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ کوبرا سانپ کو کسی چھوٹی سی ٹوکری میں بند کرنا ناممکن ہے

مصری امور کے ماہر جویسی ٹیلڈیسلی اور اینڈریو گرے اس بات سے متفق نہیں کہ قلوپطرہ کی موت کوبرا سانپ کے ڈسنے سے ہوئی۔

اینڈریو گرے کا کہنا ہے کہ نہ صرف یہ کہ کوبرا بڑے سانپ ہوتے ہیں بلکہ صرف دس فیصد ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ سانپ کے کاٹنے سے کوئی مر جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سانپ کا زہر انسان کے جسم میں منتقل ہو بھی جائے تو وہ آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک سانپ کو یکے بعد دیگرے تین افراد کو قتل کرنے کےلیے استعمال کریں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سانپ اپنے زہر کو شکار کے لیے اور اپنی حفاظت کے لیے محفوظ رکھتے ہیں اور ضرورت کے وقت استعمال کرتے ہیں۔

ملکہ کی موت کے حوالے سے تاریخی مشاہدہ کرنے والے ڈاکٹر جویسی ٹیلڈیسلیجو کہ قلوپطرہ، مصر کی آخری ملکہ کے مصنف بھی ہیں قدیم مصر کے حوالے سے آئندہ ہفتے ایک فری آن لائن کورس کروانے میں معاونت کر رہے ہیں جس کا نام مصر کی تاریخ ہے۔

اسی بارے میں