قبرص میں برطانوی فضائی اڈے پر پناہ گزینوں کی آمد

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بحیرہ روم میں مختلف یونانی یا اطالوی جزیروں کے برعکس یورپی یونین کے رکن قبرص میں پناہ گزینوں کی آمد نہیں دیکھی جا رہی تھی

برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ قبرص کے علاقے اکروتیری میں رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے اڈے پر چار کشتیوں میں سوار 40 پناہ گزین پہنچے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔‘

بحیرۂ روم سے یورپ آنے کے خواہش مند پناہ گزینوں کے بحران کے دوران پہلی بار لوگوں نے برطانیہ کے کسی آزاد و خودمختار علاقے میں قدم رکھا ہے۔

برطانیہ قبرص میں قائم اِس فوجی اڈے کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فـضائی حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’ کشتیاں بدھ کی صبح وہاں پہنچیں۔‘

بحیرہ روم میں مختلف یونانی یا اطالوی جزیروں کے برعکس یورپی یونین کے رکن قبرص میں پناہ گزینوں کی آمد نہیں دیکھی جا رہی تھی۔

رواں برس اب تک تقریباً چھ لاکھ پناہ گزین سمندر کے راستے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 1998 میں اکروتیری کے رائل ایئر فورس اڈے پر عراق سے تعلق رکھنے والے کرد آئے تھے۔

سنہ 1998 میں اکروتیری کے رائل ایئر فورس کے اڈے پر آنے والے عراقی کرد اب بھی قبرص میں قائم برطانیہ کے دوسرے فوجی اڈے میں مقیم ہیں۔

اُنھوں نے برطانیہ میں پناہ کے لیے کئی بار درخواست دینے کی کوشش کی لیکن ان کو ہر بار حکومت کی جانب سے ٹھکرا دیا گیا۔

یورپی یونین کمیشن کے صدر ژاں کلود ینکر نے اتوار کو پناہ گزینوں کے بحران کے حوالے سے متعدد یورپی یونین اور بلقانی ریاستوں کے رہنماؤں کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

بدھ کو ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ یہاں ’زیادہ سے زیادہ تعاون، وسیع پیمانے پر مشاورت اور فوری طور پر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں