اسد سے ملاقات کے بعد پوتن کے مخالفین سے رابطے

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شام کے صدر بشارالاسد کے ماسکو کے غیر اعلانیہ دورے کے بعد ان کے روسی ہم منصب نے صدر اسد کے مخالف سعودی عرب اور ترکی کے سربراہان سے ٹیلی فون پر رابطے کیے ہیں۔

صدر پوتن نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے بات کی ہے۔ یہ دونوں ممالک شام میں اسد مخالف باغیوں کے بڑے حمایتی ہیں۔

’سابق سوویت ممالک کے ہزاروں افراد دولت اسلامیہ کے ساتھی‘

شام میں روس کے بڑھتے ہوئے مفادات

’بمباری کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کو مستحکم کرنا ہے‘

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق صدر پوتن نے ٹیلی فون پر ترکی کے صدر سے بات چیت میں صدر بشارالاسد کے دورے اور شام کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

اس کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لورووف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے بات کی ہے۔

شامی صدر ہنگامی دورے پر ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی خواہش تھی کہ بشارالاسد ماسکو میں رک جاتے۔

Image caption سنہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے صدر بشار الاسد کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے

شام کے صدر بشارالاسد نے روس کا ہنگامی دورہ کیا جہاں انھوں نے روس کے صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کی۔

صدر اسد کا روس کا یہ دورہ غیر اعلانیہ تھا۔

روس کے صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ’مسٹر اسد منگل کی شام روس پہنچے جہاں انھوں نے صدر پوتن سے ملاقات کی۔‘

بشار الاسد نے شام کی سلامتی اور آزادی کے لیے اس کا ساتھ دینے پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی مداخلت سے ’شام میں ایسے واقعات وقوع پذیر نہیں ہوئے جن کی وجہ سے مزید المناک حالات پیدا ہوتے۔‘

صدر اسد کا کہنا تھا کہ ’مسئلے کے سیاسی حل میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے۔ اور یقیناً اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے صرف قیادت ہی نہیں بلکہ پوری شامی قوم خواہش مند ہے۔‘

روس نے 30 ستمبر سے شام میں فضائی حملے شروع کیے تھے جس میں اس کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بشار الاسد کا کہنا تھا کہ روس کی مداخلت سے مزید المناک حالات پیدا ہونے سے بچ گئے

ادھر مغربی ممالک اور شامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی جہاز ان جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہے ہیں جن کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے نہیں ہے۔ لیکن روس نے الزام کی تردید کی ہے۔

روس کے صدر کے ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں دہشت گرد تنظیموں سے لڑائی، شام میں روس کے فضائی حملے اور شام کی سرکاری افواج کی منصوبہ بندی پر بات کی۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد صدر بشار الاسد کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔

کریملن کے بیان کے مطابق ’صدر پوتن نے شام کو دوست قرار دیا اور کہا کہ روس شام میں نہ صرف عسکری کارروائی میں مدد کرے گا بلکہ ملک میں امن کے حصول کے لیے سیاسی حل پر بھی مدد کرنے کو تیار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ روس کو خدشہ ہے کہ سابق سویت ریاستوں کے کم سے کم چار ہزار افراد شام میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شریک ہیں۔

’ایک مرتبہ جب ان کی نظریاتی تربیت ہو جائے اور انھیں لڑنے کا تجربہ بھی ہو، تو ہم انھیں واپس روس نہیں آنے دیں گے۔‘

اسی بارے میں