انڈونیشیا میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قانون لاگو

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption نئے قانون کے تحت مقامی اور غیر ملکی مسلمان مردوں اور خواتین دونوں کو ہم جنس پرستی کے فعل میں ملوث ہونے کی پاداش میں سو دفعہ چھڑی سے مارا جائے گا

انڈونیشیا کے قدامت پسند صوبے آچے میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین لاگو کیے گئے ہیں۔

نئے قانون کے تحت مقامی اور غیر ملکی مسلمان مردوں اور خواتین دونوں کو ہم جنس پرستی کے فعل میں ملوث ہونے کی پاداش میں 100 دفعہ چھڑی سے مارا جائے گا۔

بلوچستان:’ہم جنس شادی‘ پر چار افراد گرفتار

ہم جنس پرستوں کی شادی کا فیصلہ ’قانون سے ماورا فیصلہ‘: ٹیکسس

اس قانون کی منظوری سنہ 2014 میں دی گئی تھی لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کی مخالفت کے بعد حکومت نے اسے اب نافذ کیا ہے۔

آچے حالیہ برسوں میں زیادہ قدامت پسند بن گیا ہے اور انڈونیشیا میں شرعی قوانین پر عمل درآمد کرنے والا واحد صوبہ ہے۔

اس نئے قانون کے تحت زنا کے فعل میں ملوث ہونے کی پاداش میں بھی ممکنہ طور پر سو دفعہ چھڑی سے مارنے کی سزا مل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بورڈ پر لکھا ہے: ’اگر آپ ساحل پر ڈیٹنگ کرتے ہیں تو اپنے لیے خطرہ مول لے رہے ہیں‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کو نفاذِ شریعت کے صوبائی سربراہ عباس سیاحرزال نے بتایا کہ ’یہ قانون انسانی وقار کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ آچے کے مسلمانوں کو غیر اخلاقی کارروائیاں کرنے سے محفوظ رکھے گا۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم ’ستارہ انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ پیس‘ کے ترجمان اسماعیل حسنی نے اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ظالمانہ، غیر انسانی اور آئین کے خلاف‘ ہے۔

انڈونیشیا کے باقی حصوں میں ہم جنس پرستی غیر قانونی نہیں ہے۔

2001 میں حکومت نے ایک علیحدگی پسند تحریک کو ختم کرنے کے لیے آچے کو صوبے میں اپنے قوانین لاگو کرنے کی اجازت دی تھی۔

حالیہ دنوں سے آچے میں مسلمان اکثریت اور عیسائیوں جیسی چھوٹی اقلیتوں کے درمیان تعلقات بگڑ رہے ہیں۔

آچے کے مقامی حکام نے حالیہ ہفتوں میں پر تشدد مظاہروں کے دوران یہ کہتے ہوئے گرجا گھر تباہ کیے ہیں کہ ان کے پاس مناسب اجازت نامے نہیں تھے۔

اسی بارے میں