بیماری سونگھ لینے والی خاتون

Image caption جائے نے اپنے خاوند کی تشخیص ہونے سے 6 سال پہلے ہی ان میں ایک تبدیلی محسوس کی تھی

مغربی آسٹریلیا کے دارالحکومت پرتھ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون سے ملیے جن کی سونگھنے کی حس سے پارکنسنز کے مرض کی تشخیص کا طریقہ کار تبدیل ہو سکتا ہے۔

جوئے ملن کے خاوند لیس جون میں 65 سال کی عمر میں چل بسے تھے۔

’سونگھنے کی حس سے زندگی کا دورانیہ معلوم ہو سکتا ہے‘

’انسان دس بنیادی بوئیں سونگھ سکتا ہے‘

45 سال کی عمر میں پارکنسنز کی تشخیص ہونے سے پہلے وہ ایک کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ (بےہوشی کے ماہر ڈاکٹر) تھے۔

پارکنسنز کے مرض سے لوگ صحیح طرح چل، بول یا سو نہیں سکتے۔ اس مرض کا کوئی علاج یا حتمی تشخیصی طریقہ نہیں ہے۔

جوئے نے اپنے شوہر میں اس مرض کی تشخیص سے چھ سال پہلے ہی ان میں تبدیلی محسوس کر لی تھی۔

وہ کہتی ہیں: ’ان کے بدن کی مہک بدل گئی جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ اچانک نہیں بدلی اور ہلکی ہلکی بدلی تھی۔ ایک مشک سی بو تھی۔ میں اس مہک کو کبھی کبھار ہی سونگھ پاتی تھی۔‘

Image caption جائے کے خاوند کو 45 سال کی عمر میں پارکنسنز کے علامات نظر آنے لگے تھے

جوئے اس مہک کو پارکنسنز سے تب ہی کر منسلک کر پائیں جب انھوں نے برطانیہ کی ایک خیراتی تنظیم کی رکنیت حاصل کی اور ایسے لوگوں سے ملیں جن سے بھی یہ خاص مہک آتی تھی۔

اتفاق سے انھوں نے ایک سیمینار کے دوران اس بات کا ذکر کچھ سائنسدانوں کے سامنے کیا جنھوں نے ان کی اس بات میں بہت دلچسپی ظاہر کی۔

ایڈنبرا یونیورسٹی نے ان پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے دوران جوئے نے کئی درست جواب دیے۔

ڈاکٹر ٹیلو کوناتھ ایڈنبرا یونیورسٹی میں حیاتیاتی سائنس کے سکول سے منسلک ہیں اور وہ وہ پہلے سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جن سے جوئے نے شروع میں بات کی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’جوئے پر تجربہ کرنے کے لیے ہم نے پارکنسنز میں مبتلا چھ لوگوں کو بلایا۔ اس کے علاوہ ہم نے اس مرض سے محفوظ چھ لوگوں کو بھی بلایا تھا۔ ہم نے انھیں ایک دن کے پہنے کے لیے ٹی شرٹس دیں اور پھر واپس لے کر انھیں تھیلیوں میں ڈال کر ان کی شناخت کی۔ جائے نے ہمیں یہ بتانا تھا کہ کون سا شخص پارکنسنز سے متاثر تھا اور کون سا نہیں۔ انھوں نے 12 میں سے 11 درست جواب دیے تھے جس سے ہم بہت متاثر ہوئے تھے۔‘

Image caption ایڈنبرا یونیورسٹی نے ان پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے دوران جائے نے کئی درست جواب دیے

ڈاکٹر کوناتھ نے مزید کہا ’جائے نے پارکنسنز سے متاثر چھ افراد کی شناخت تو کر لی تھی لیکن وہ اس بات پر اٹل تھیں کہ ہم نے پارکنسنز کے بغیر جو چھ لوگ چننے تھی ان میں سے بھی ایک اس بیماری سے متاثر تھا۔ لیکن اس شخص کو ہم نے پارکنسنز کے بغیر والےگروہ میں شامل کیا تھا اور ان کے اور ہمارے مطابق وہ اس مرض سے متاثر نہیں تھے۔

لیکن اس تجربے کے آٹھ ماہ بعد اس شخص نے مجھے بتایا کہ اسے پارکنسنز کی تشخیص کی گئی تھی۔ اس لیے جائے نے 12 میں 11 نہیں بلکہ سارے لوگوں کی شناخت صحیح کی تھی۔ ہم ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اس رجحان کی مزید چھان بین کرنی پڑی۔‘

آج کل سائنسدان یہی کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ پارکنسنز کے ابتدائی مراحل میں لوگوں سے ایک خاص مہک نکلتی ہے جو اس مرض سے منسلک ہے۔

سائنسدان چاہتے ہیں کہ وہ اس مہک کی وجہ ڈھونڈ کر اس کی شناخت ایک مولیکیول سے کر سکیں جس کے بعد وہ ایک سادہ تجربہ تخلیق کرنے کی امید کرتے ہیں۔ اس تجربے کے لیے انھیں صرف ایک شخص کے ماتھے سے پسینے کو ایک نمونے کے طور پر استعمال کر کے اس بیماری کی تشخیص کرنی ہے۔

خیراتی تنظیم ’پارکنسنز یو کے‘ اب مانچسٹر، ایڈنبرا اور لندن میں اس مرض سے متاثر 200 لوگوں پر تحقیق کرنے کے لیے محققین کو رقم فراہم کر رہی ہے۔

جائے امید کرتی ہیں کہ ان کی اس حادثاتی دریافت سے پارکنسنز بیماری کے ابتدائی مراحل میں مریضوں کی زندگی پر خاصا مثبت اثر پڑ ے گا۔

اسی بارے میں