چین میں مشترکہ بیوی کی تجویز پر ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں مردوں اور عوتوں کی آبادی تمام ممالک سے زیادہ غیرمتوازن ہے

چین میں ایک پروفیسر کی اس تجویز کے بعد کہ غریب مردوں کو چاہیے کہ وہ مشترکہ بیویاں رکھیں، ملک کی آبادی میں مردوں اور خواتین کی تعداد میں عدم توازن پر ایک نئی دھواں دھار بحت چھڑ گئی ہے۔

چین میں انٹرنیٹ پر لوگوں نے چواچیانگ یونیورسٹی کے معاشیات کے پروفیسر سیے زواشی کی اس تجویز کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

چین میں مردوں اور عوتوں کی آبادی تمام ممالک میں سب سے زیادہ غیرمتوازن ہے۔ چین میں ہر 118 لڑکوں کی پیدائش کے مقابلے میں ایک سو لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔

اگرچہ اس عدم توازن کی بڑی وجہ ملک کی ’فی گھرانہ ایک بچہ‘ کی پالیسی ہے، تاہم اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ روایتی طور پر لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں دولت میں اضافے اور شہروں کی جانب ہجرت کی وجہ سے دیہاتوں میں پیچھے رہ جانے والے مردوں کو شریک حیات تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

’خواتین کی قدر‘

انٹرنیٹ پر جلد ہی بہت مقبول ہو جانے والے مضمون میں پروفیسر زواشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ تجویز ان خبروں کی روشنی میں دی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ سنہ 2020 تک چین میں غیر شادی شدہ مردوں کی تعداد تین سے چار کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی مانگ اور ان کی رسد میں کمی کے نتیجے میں ملک میں ’خواتین کی قدر‘ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

’آنے والے دنوں میں زیادہ آمدن والے مردوں کے لیے خواتین تلاش کرنا آسان ہوگا کیونکہ وہ زیادہ قیمت ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔ لیکن ایسے میں کم آمدن والے مردوں کا کیا ہوگا؟‘

’ایک طریقہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ بہت سارے مرد مِل کر اپنے لیے ایک بیوی تلاش کریں۔ میں کوئی انہونی بات نہیں کر رہا کیونکہ چین کے کچھ دور دراز علاقوں میں ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ جہاں بھائی آپس میں مِل کر ایک خاتون سے شادی کر لیتے ہیں اور وہ لوگ ہنسی خوشی رہتے ہیں اور ان میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔‘

مشترکہ اہلیہ کی تجویز کے علاوہ پروفیسر زواشی نے اپنے مضمون میں تیز معاشی ترقی پر بھی زور دیا ہے تا کہ غریب کنوارے زیادہ پیسے کما سکیں اور جنوب مشرقی ایشیا یا افریقہ کی خواتین کو اپنی جانب کھینچ سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچھ عرصے سے چینی مردوں کی ایک بڑی تعداد اس ویتنامی خاتون جیسی غیر ملکی خواتین سے شادیاں کر رہی ہے

چین کے کچھ علاقوں میں بیویوں کی کمی کی وجہ سے وہاں کے مرد حالیہ عرصے میں ویتنام اور میانمار جیسے ہمسائیہ ممالک کا رخ بھی کر رہے ہیں، لیکن اس سے انسانی سمگلنگ اور فراڈ شادیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

’شدید معاشرتی مسئلہ‘

پروفیسر زواشی کا مذکورہ مضمون گزشتہ ہفتے شائع ہوا تھا جس کے بعد سے انٹرنیٹ پر بہت سے لوگوں نے اسے آپس میں شیئر کیا۔ مضمون کو اکثر قارئین کی جانب سے تضحیک کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان لوگوں کا خیال ہے کہ پروفسیر کی تجویز نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔

ماشرتی رابطوں کی چینی ویب سائٹ ’وائبو‘ پر ایک صارف نے لکھا کہ ’ اگر آپ کو کوئی جیون ساتھی نہیں ملتا تو فکر کی کوئی بات نہیں، اگر خواتین کا واحد مقصد یہی ہے کہ وہ آپ کے وارث پیدا کریں اور آبادی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کئی مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیں، تو ہم میں اور جانوروں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔‘

چین میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی مینیجر جینگ زیانگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مردوں اور خواتین میں عدم توازن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’ہمارے ہاں مردوں کو خواتین پر ترجیح دی جاتی ہے۔‘

’اور اب اس مسئلے کے جو حل تجویز کیے جا رہے ہیں وہ بھی مردوں کے نکتہ نظر سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ نہایت بے تُکی بات ہے۔‘

’پروفیسر زواشی نے اپنی تجویز میں خواتین کی خواہشات اور ان کے حقوق کو بالکل نظر ادا کیا ہے اور انھوں نے خواتین کو ایسی بے جان اشیاء کے طور پر پیش کیا ہے جن کا واحد مقصد مردوں کی جنسی ضروریات پورا کرنا، شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا ہے۔ یہ تجویز بنیادی طور جنسی امتیاز پر مبنی تجویز ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sina
Image caption پروفیسر زواشی کے متنازعہ مضمون کا عنوان ہے ’تین کروڑ کنواروں کا خوف ایک بے بنیاد خوف ہے‘

لوگوں کی شدید تنقید کے بعد پروفیسر زواشی نے ایک اور مضمون بھی لکھا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ شوشل میڈیا اور ٹیلیفون پر لوگوں نے ان پر شدید غضے کا اظہار کیا۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بات پر قائم ہیں اور جہاں تک قوانین اور اخلاقیات کی بات ہے تو انھیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

’اگر ہم اخلاقیات کا ڈنڈا اٹھائے رکھیں گے، ’ایک شوہر ایک بیوی‘ کے معاشرتی معاہدے پر ڈٹے رہیں گے اور تین کروڑ مردوں کو نہ کوئی خاتون دیں گے اور نہ کوئی امید تو یہ لوگ معاشرے سے نفرت کرنا شروع کر دیں گے جس کے نتیجے میں ہمیں شدید معاشرتی مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

’اس لیے میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھ سے اخلاقیات کی بات نہ کریں۔ اگر ہم تین کروڑ کنواروں کو خواتین سے دور رکھتے ہیں تو ان کی زندگی میں کوئی امید نہیں بچے گی اور ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ ریپ کرنا شروع کر دیں، قتل کرنا شروع کر دیں اور بم پھاڑنا شروع کر دیں۔ (میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ لوگ ضرور ایسا ہی کریں گے)۔ پلیز مجھے نہ بتایے کہ میری بات آپ کی اخلاقیات سے مطابقت نہیں رکھتی۔‘

اسی بارے میں