حرم الشریف میں امن کے لیے اسرائیل اوراردن میں معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیرِ خارجہ نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے ملاقات کی

امریکی وزیرِ حارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اسرائیل اور اردن نے یروشلم کے مقدس مقام پر موجود کشیدگی کو کم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت حرم الشریف کی ویڈیو مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔

فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کا سانجھا خوف

حرم الشریف کے لیے عالمی مبصرین کی ضرورت نہیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے یہ بیان اردن کے حکام سے مذاکرت کے بعد دیا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے سلامتی کونسل میں سامنے آنے والی اس تجویز کو رد کر دیا تھا کہ حرم الشریف کے علاقے کی غیرجانبدارانہ عالمی نگرانی کی جائے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جو کہ اس وقت خطے کے دورے پر ہیں نے سنیچر کو فلسطینی رہنما محمود عباس اور اردن کے بادشاہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

خبر رساں ادارے رویٹرز کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اردن کے بادشاہ کی جانب سے حرم الشریف کی ویڈو نگرانی کرنے کی تجویز پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اور اسے ’بہترین تجویز‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اب تکنیکی ٹیمیں مل کر اس پر عملدرآمد کریں گی۔

خیال رہے کہ اردن حرم الشریف کا رسمی محافظ ہے۔

جان کیری نے بتایا کہ اسرائیل نے وہاں موجود قوانین کو برقرار رکھنے کا پھر سے وعدہ کیا ہے۔

اس سے قبل فلسطینوں کی جانب سے ان افواہوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تھا کہ اسرائیلی علاقے میں موجود قوانین کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تشدد کے تازہ واقعات کے حوالے سے اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ایک فلسطینی حملہ آور جس نے سکیورٹی گارڈ پر چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی تھی کو مغربی کنارے کے شمال میں سنیچر کی صبح گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔

ٹیمپل ماؤنٹ یا حرم الشریف یہودیوں اور مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے اور یہاں دو اہم مساجد، مسجدِ اقصیٰ اور قبۃ صخرہ واقع ہیں۔

حالیہ عرصے میں وہاں چاقو اور گن کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں کم ازکم آٹھ اسرئیلی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو ئے تھے جبکہ حملہ آوروں سمیت 50 کے قریب فلسطینی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں