تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتے کے دوران روزانہ کی بنیاد پر صرف یونان میں 9000 تارکینِ وطن داخل ہوئے

مرکزی یورپ اور بلقان ریاستوں کے رہنماؤں نے برسلز میں ایک ہنگامی اجلاس کے دوران پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے 17 نکاتی ایجنڈہ منظور کر لیا ہے۔

ایجنڈے کی منظوری کا اعلان یورپین یونین کے صدر جین کلاڈ جنکر نے کیا۔

انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ یونان اور مغربی روٹ پر مزید تارکینِ وطن کے لیے استقبالی مراکز میں ایک لاکھ مقامات بنائے جائیں گے۔

تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے کیسے نمٹا جائے اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں یورپی یونین کے دس اور تین غیر یورپی ممالک شریک ہوئے جبکہ اجلاس سے ترکی کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا گیا۔

اس معاہدے کے تحت یونان تارکینِ وطن کے لیے ریسیپشن سینٹرز کھولے گا جہاں کم ازکم 30 ہزار پناہ گزینوں کو اس سال کے آخر تک جگہ فراہم کی جائے گی۔

Image caption سرد موسم کی شدت تارکینِ وطن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا یو این ایچ سی آر اسی دوران تارکینِ وطن کے لیے مزید 20 ہزار مقامات فراہم کرےگا۔

اس میں بلقان کےممالک میں پناہ گزینوں کے لیے مزید 50 ہزار مقامات کے علاوہ ریسیپشن سینٹرز بھی ہوں گے۔

یہ راستہ شمال سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے معروف ہے جو جرمنی اور دیگر ممالک کا رخ کرنا چاہتے ہیں۔

یورپی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ:

  • ایک ہفتے کے اندر 400 پولیس اہلکاروں کو سلووینیا بھجوائیں گے ۔
  • ہمسایہ ممالک کو بتائے بغیر ان کی جانب تارکینِ وطن کی پیش قدمی کے اقدام کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔
  • خصوصی افسران مقرر کیے جائیں گے جو اپنے حکام اور ہمسایہ ممالک کو تارکینِ وطن کی تعداد سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یہ یورپی یونین کے لیے ’لٹمس ٹیسٹ‘ ہے جس کا سامنا اس نے پہلے کبھی نہیں کیا۔

ادھرہنگری نے سربیا اور کروئیشیا سے ملحقہ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے اور اس طرح وہ تارکینِ وطن کو متبادل راستہ اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔

Image caption زمینی راستوں سے آنے والے تارکینِ وطن کو سرحدوں پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سمندری راستہ اختیار کرنے والے 3000 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں

برسلز سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شکوے شکایات بھی ہوئے اور تند و تیز جملوں کے تبادلے بھی کیے گئے۔

اجلاس سے قبل کروئیشیا کے وزیراعظم زوران میلانوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ ’غیر حقیقی‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ کسی نے کئی ماہ کی نیند سے جاگنے کے بعد یہ ڈرافٹ تیار کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل ترکی اور یونان میں ہے۔