اگر آج عراق میں صدام اور لیبیا میں قذافی ہوتے تو بہتر تھا: ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدام حسین کو سنہ 2006 میں پھانسی دی گئی تھی

امریکہ میں صدارتی دوڑ میں شامل امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر آج عراق میں صدام حسین اور لیبیا میں معمر قذافی کی حکومت ہوتی تو دنیا ایک بہتر جگہ ہوتی۔

ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ارب پتی تاجر ڈونالڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مہمات کو ’شدید ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشرق وسطی کے بحران میں امریکی صدر براک اوباما اور سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی ناک کے نیچے مزید اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ہلیری کلنٹن ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا: ’لوگوں کے سر تن سے جدا کیے جا رہے ہیں، وہ ڈوب رہے ہیں۔ ابھی وہاں کا حال صدام حسین اور قذافی کو دور حکومت سے بہت بدتر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں ہونے والے صدارتی امیدوار کی دور میں شامل ارب پتی تاجر ہیں

انھوں نے کہا: ’میرے کہنے کا مطلب ہے لیبیا شدید تباہی سے دو چار ہے۔عراق بھی ناکامی ہے۔ شام بھی ناکامی ہے۔ تمام مشرق وسطی ناکامی ہے۔ یہ سب ہلیری کلنٹن اور اوباما کے رہتے ہوئے ہوا ہے۔‘

انھوں نے عراق کو ’ہارورڈ آف ٹیرارزم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق ہرقسم کے دہشت گردوں کی تربیت گاہ بن کر رہ گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’اگر آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں تو آپ یہ پائیں گے کہ پہلے بہتر تھا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صدام حسین اچھا آدمی تھا، وہ ایک خوفناک شخص تھا۔‘

عالمی نیوز چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی میں امریکی فوج کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کرنل معمر قذافی نے لیبیا پر تقریبا چار دہائیوں تک حکومت کی انھیں سنہ 2011 میں قتل کر دیا گیا

انھوں نے صدر براک اوباما پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ امریکیوں کو متحد کریں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا اور اس وقت کے حکمراں صدام حسین کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور بعد میں سنہ 2006 میں صدام حسین کے پکڑے جانے کے بعد انھیں پھانسی دے دی گئی تھی۔

لیبیا میں تقریبا چار دہائیوں تک حکومت کرنے والے معمر قذافی کو باغی جنگجوؤں نے قتل کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ لیبیا میں متحارب جنگجوؤں اور باغیوں کو امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

اسی بارے میں