’تارکین وطن کے بحران سے یورپی یونین کی ہم آہنگی کو خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر معمولی وقت‘ ہے اور اس کے لیے ’غیر معمولی اقدامات، غیرمعمولی قربانیاں اور غیرمعمولی یکجہتی کی ضرورت ہے‘

یورپیئن کونسل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ تارکین وطن کے بحران کی وجہ سے یورپی یونین کی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹسک نے یورپیئن پارلیمنٹ کو بتایا کہ یورپی یونین کو ایک دہائی کے دوران سب بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

جبکہ پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یورپی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک کمیونٹی کے طور پر مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے اپنے ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔

سلووینیا کی وارننگ: یورپی اتحاد بکھر جائے گا

تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ

’کافروں کے ملک میں رہنے کو ترجیح دوں گا‘

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ اس سال سات لاکھ سے زائد تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں۔

یورپی حکام ہزاروں کی تعداد میں مزید آنے والے تارکین وطن سے نبرد آزما ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں جبکہ اس دوران یورپی یونین کے سربراہان کے دورمیان تلخ الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ بیشتر تارکین وطن کا تعلق شام اور شورش زدہ ممالک سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے یورپی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے ملکی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں

فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں یورپی پالیمان کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ اس بحران سے یورپی یونین میں تبدیلی رونما ہوسکتی ہے اور شینگن زون کے ممالک میں سرحدوں سے آزاد سفر جیسے بنیادی اصول برباد کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ چیلنج یورپ کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

’یہ تبدیلی بہتری کی جانب نہیں ہے۔‘

ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ یہ ’غیر معمولی وقت‘ ہے اور اس کے لیے ’غیر معمولی اقدامات، غیرمعمولی قربانیاں اور غیرمعمولی یکجہتی کی ضرورت ہے۔‘

ڈونلڈ ٹسک کی جانب سے یہ تنبیہہ یورپی سربراہان کی جانب سے برسلز میں تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد سے متعلق ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کےمطابق اس سال سات لاکھ سے زائد تارکین وطن کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچے ہیں

خیال رہے کہ پیر کو سلووینیا میں پولیس کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں دس ہزار کے قریب تارکین وطن کروئیشیا سے آئے ہیں۔

دوسری جانب رپسپشن سینٹرز بڑھانے اور پولیس کی تعیناتی میں اضافے سے قطع نظر یورپین پارلیمان کی صدر شلز کا کہنا ہے انھوں نے مذاکرات ’انتہائی پریشان کن‘ حالت میں چھوڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’دائیں اور بائیں جانب کی حکومتیں بعض اوقات سمجھتے ہیں کہ قومی مفادات کمیونٹی سے زیادہ اہم ہیں۔ اس سے جو پہلو سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے وہ مہاجرین اور یورپی یونین کی ہم آہنگی ہے۔‘

ادھر یورپی کمیشن کے صدر یاں کلوڈ ینکر نے کہا ہے کہ رکن ریاستوں کے درمیان بات چیت کی حوصلہ افزائی کی ضرورت کے لیے بلائے گئے اجلاس سے ظاہر ہوا ہے کہ یورپی یونین ’اچھی شکل میں نہیں‘ ہے۔

اسی بارے میں