’سوڈان میں ریپ اور انسانی گوشت کھلانے کے واقعات‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کمیشن کے مطابق جنگی جرائم زیادہ تر جوبا، بور، بنیتو اور ملاکل کے قصبوں میں کیے گئے جو لڑائی کا مرکز رہے ہیں

افریقن یونین نے جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنہ 2013 میں کشیدگی کے آعاز کے بعد سے شدید ترین تشدد اختیار کیے ہوئے ہیں۔

تحقیات کرنے والے ایک کمیشن کو معلوم ہوا ہے کہ قتل، تشدد، جسمانی اعضا کاٹنے اور ریپ جیسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے بیشتر کا شکار عام شہری ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کئی مقامات پر لوگوں کو زبردستی انسانی گوشت کھلایا گیا۔

تاہم بتایا گیا ہے کہ اس لڑائی میں بڑے پیمانے پر نسل کشی نہیں کی گئی۔

جنوبی سوڈان: ’نسلی بنیادوں پر سینکڑوں شہری قتل‘

اگست میں باغیوں اور حکومت کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بار بار ٹوٹنے پر کشیدگی برقرار ہے۔

دو سال قبل شروع ہونے والی خانے جنگی کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد اس کشیدگی کے باعث مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہیں۔

نائیجریا کے سابق صدر کی سربراہی میں قائم کیے گئے افریقین یونین کے کمیشن کے مطابق جنوبی سوڈان میں دونوں جانب سے تشدد کیا گیا ہے۔

اس کی رپورٹ کے مطابق بے رحمانہ انداز میں قتل، عورتوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعات پیش آئے جن میں زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جو لڑائی میں شامل نہیں تھے۔

کمیشن کے مطابق جنگی جرائم زیادہ تر جوبا، بور، بنیتو اور ملاکل کے قصبوں میں کیے گئے جو لڑائی کا مرکز رہے ہیں۔

دارالحکومت جوبا میں کئی عینی شاہدین نے کمیشن کو بتایا کے جنگی جرائم کے مرتکب افراد نے کچھ لوگوں کو کچھ دیر پہلے قتل ہونے والے لوگوں کا خون پلایا اور انسانی گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق ان افراد نے مرنے والے لوگوں کا خون نکالا اور ایک قبیلے کے لوگوں پینے پر مجبور کیا اور مرے ہوئے جلا ہوا انسانی گوشت کھلایا۔

افریقین یونین کے تحقیق کاروں نے اجتماعی قبریں دریافت کی ہیں۔

کمشین نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی حمایت یافتہ افریقی عدالت اس تشدد کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

باوجود اس کے کہ یہ بظاہر ایک نسلی تشدد ہے کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے نسل کشی کے کوئی معقول شواہد نہیں ملے۔

اسی بارے میں