’ایران کو بشارالاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایران کو شام کے تنازع کے حل کے لیے بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کو قبول کرنا ہوگا۔

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عدیل الزبیر نے یہ بیان ویانا میں شامی کے مسئلے پر ہونے والی بین الاقوامی بات چیت کے دوران دیا۔

جو امریکہ نہ کر سکا روس کر سکےگا؟

’شام کے جہنم سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا آسان نہیں‘

شام کے تنازع کے بڑے فریقین شامی حکومت اور باغیوں کے حمایتی ممالک ویانا میں شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے تنازع کے حل کے لیے ہونے والی بات چیت میں ایران کی شمولیت سے کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

انھوں نے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی رہنمائی کا مظاہرہ کریں اور رویوں میں لچک دکھائیں۔

ایران پہلی مرتبہ اس نوعیت کے مذاکرات کا حصہ بن رہا ہے۔ اس بات چیت میں روس اور ترکی بھی شامل ہیں۔

شام اور روس دونوں ہی شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔ دونوں نے حال ہی میں شامی لڑائی میں اپنا فوج کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ، سعودی عرب اور دورسی خلیجی ریاستوں کا اصرار ہے کہ بشار الاسد اب زیادہ عرصے تک شام کے مستقبل سے وابستہ نہیں رہے سکتے۔

سعودی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا۔

’انھیں جانا ہے چاہے وہ سیاسی عمل کے ذریعے جائیں یا طاقت کے زور پر۔‘

اس سے قبل امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ شام کی خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوشش تیز کر رہا ہے۔ امریکہ شام کے باغیوں کا حامی ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی، مصر، لبنان اور یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ جبکہ توقع ہے مشرقِ وسطی کی دیگر ریاستیں بھی اس میں شامل ہوں گی۔

ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران کی حکومت نے بشار الاسد کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران کی حکومت نے بشار الاسد کے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں

شام کی سیاسی حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ویانا میں ہونے والی عالمی بات چیت میں ایران کی شمولیت معاملے کو اور بھیی پیچیدہ بنا دے گی۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ سے بھی تعلقات ہیں جس نے شام میں حکومتی فوجوں کی مدد کے لیے اپنے جنگجو بھیجے ہیں۔

ایران کی حکومت نے شام میں کثیرالجماعتی آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی تجویز دی ہے تاہم لیکن وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔

روس جس نے ہمیشہ شام کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا اس نے بھی گذشتہ ماہ شام میں فضائی حملے شروع کیے جس میں بقول اس کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ روسی حملوں میں زیادہ تر مغرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ شامی باغی نشانہ بنے۔

اسی بارے میں