فحش مواد رکھنے پر اقوامِ متحدہ کے چار اہلکار نوکری سے فارغ

تصویر کے کاپی رائٹ United Nations
Image caption اختیارات کے غلط استعمال اور مجرمانہ رویوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹیریٹ کے 41000 ملازمین تادیبی کارروائی کی زد میں آئے

اقوامِ متحدہ کی داخلہ رپورٹ کے مطابق ادارے نے چار اہلکاروں کو بچوں سے متعلق فحش مواد سرکاری ای میل سے ایک دوسرے کو بھیجنے پر نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

ان چاروں کے علاوہ ادارے کے ایک اہلکار کو سرکاری گاڑی میں منشیات لے جانے کے الزام میں بھی نوکری سے نکالا گیا ہے۔

بچوں کی فحش تصاویر اور فلمیں دیکھنے اور بنانے پر سینکڑوں گرفتار

رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سنہ 2014 سے تیس جون سنہ 2015 کے دوران ایسے پانچ واقعات ہوئے ۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان سابق اہلکاروں کے خلاف کوئی مجرمانہ الزامات لگائے گئے ہیں یا نہیں۔

بچوں کی پورنو گرافی رکھنے والے ان چاروں افراد کو ’اقوامِ متحدہ کی اطلاعات اور رابطہ کاری کی ٹیکنالوجی کے ناجائز استعمال‘ کے تحت برخاست کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اختیارات کے غلط استعمال اور مجرمانہ رویوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹیریٹ کے 41000 ملازمین تادیبی کارروائی کی زد میں آئے۔

تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نوکری سے نکالے جانے والے چاروں افراد کہاں تعینات تھے اور انھیں کب نوکری سے نکالا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا ہے کہ کسی بھی مجرمانہ کارروائی کا معاملہ متعلقہ ملازم کے ملک کے حکام کو سونپ دیا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’اس دوران اقوامِ متحدہ رکن ممالک کے حکام سے معاملے کی خبر لیتا رہتا ہے۔‘

اس رپورٹ میں اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق دیگر کارروائیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ بالغوں کا فحش مواد رکھنے کے جرم میں ایک دوسرے اہلکار کے عہدے میں کمی کر دی گئی ہے اور دو سال تک اس کی ترقی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایک ہوائی اڈے پر سامان کی جانچ پڑتال کے لیے تعینات اہلکار کو ایک مسافر کے سامان سے 2200 ڈالر کی رقم نکالنے پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ ایک امن مشن کے دوران اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے ایک احتجاج کے دوران ایک اہلکار کو فوجی افسر سے اسلحہ چھیننے کے الزام میں بھی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اسی احتجاج کے دوران کئی اہلکاروں نے لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل کو روکا، لوگوں پر حملہ کیا، اقوامِ متحدہ کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور حکام کی اجازت کے بغیر صحافیوں کو احاطے کے اندر جانے کی اجازت دی۔

اسی بارے میں