گوانتانامو بے میں قید آخری برطانوی شہری بھی رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد عامر امریکی قید میں جسمانی زیادتیوں کا الزام لگاتے رہے اور 2007 سے امریکی صدر بش اور اوباما دونوں نے ان کی رہائی کی منظوری دی تھی

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ گوانتانامو بے میں 13 برس سے قید برطانوی شہری شاکر عامر کو رہا کر دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ شاکر عامر امریکی جیل سے نکل چکے ہیں اور جمعے ہی کو برطانیہ واپس آ جائیں گے۔

46 سالہ سعودی شہری عامر 2002 سے کیوبا کے حراستی مرکز میں قید تھے لیکن ان پر نہ تو کسی بھی طرح کےالزامات عائد کیے گئے اور نہ ہی مقدمہ چلایا گیا۔

عامر کے چار بچے ہیں اور چونکہ انھوں نے برطانوی شہری سے شادی کر رکھی ہے اس لیے وہ جب تک چاہیں برطانیہ میں رہ سکتے ہیں۔

انھیں سنہ 2001 میں افغانستان سے حراست میں لیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا الزام تھا کہ انھوں نے طالبان جنگجوؤں کے ایک دھڑے کی قیادت کی تھی اور القا‏عدہ کے رہنما اسامہ بن لادن سے بھی ملاقات کی تھی۔

لیکن شاکر عامر ہمیشہ ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں خیراتی اور امدادی کام کر رہے تھے۔

محمد عامر امریکی قید میں جسمانی زیادتیوں کا الزام لگاتے رہے ہیں اور 2007 سے امریکی صدر بش اور اوباما دونوں نے دو بار ان کی رہائی کی منظوری دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شاکر عامر کی رہائی کے لیے مہم چلانے والوں میں اینڈی ورتھنگٹن بھی شامل تھے جنھوں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ عامر کی ناقابل قبول طویل روحانی اذیت کے سلسلے کا خاتمہ ہوگيا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ ان کی آمد پر برطانوی حکومت انھیں حراست میں نہیں لے گی اور انھیں جو نفسیاتی یا طبی مدد کی ضرورت ہے وہ مہیا کرائی جائے گی تاکہ وہ لندن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ زندگي شروع کرنے کے قابل بن سکیں۔‘

لندن میں حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن نے اس خبر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ انھوں نے اس سلسلے میں اتنے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں کہ جب تک ان کا طیارہ لندن کی سر زمین پر نہیں اترتا اس وقت تک وہ اس بات پر یقین ہی نہیں کریں گی کہ وہ حقیقی طور پر رہا کر دیے گئے ہیں۔

برطانوی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ ان کی قید سے رہائی کی بات کی تصدیق اس وقت ہوئی تھی جب عامر کی 17 سالہ بیٹی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا: ’ہمیں یقین نہیں آتا کہ ہم اپنے والد کو 14 برس کے بعد دوبارہ دیکھ سکیں گے۔‘

اسی بارے میں