ویانا مذاکرات میں شام کے مسئلے کے حل پر معمولی پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس بات چیت میں شام کی حکومت اور باغیوں کے کسی نمائندے کو دعوت نہیں دی گئی ہے

شام کے تنازعے کے حل کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کرنے والے عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے معمولی پیش رفت ہوئی ہے لیکن صدر اسد کے مستقبل کے بارے میں ابھی بھی شدید اختلافات برقرار ہیں۔

یورپی یونین کے انسانی حقوق کے سربراہ فیڈریکا موگرینی کا کہنا ہے کہ اس بات کی توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قیادت میں شام میں قیام امن کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔

جو امریکہ نہ کر سکا روس کر سکےگا؟

’بدعنوانی کا احساس اور انتہا پسندانہ تشدد‘

’ایران کو بشارالاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہوگا‘

اس بات چیت سے عین قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ شام کی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے قومی مفاد سے بالاتر ہوکر متحد ہوجائیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے پر متعلقہ ممالک کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اس تنازع کو حل کیا جا سکے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ شام کے مسئلے پر ایران سفارتی سطح پر بات چیت میں شامل ہوا ہے۔ ایران کی طرح روس بھی شام کے موجودہ حکمراں بشار الاسد کا حامی ہے اور وہ بھی اس بات چیت میں حصہ لے رہا ہے۔

ایران اور روس کو بات چیت میں امریکہ اور سعودی عرب کا سامنا ہے جو بشارالاسد کے سخت مخالف ہیں۔

اس بات چیت میں شام کی حکومت اور باغیوں کے کسی نمائندے کو دعوت نہیں دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا

اس سے قبل سعودی عرب نے کہا تھا کہ ایران کو شام کے تنازع کے حل کے لیے بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی کو قبول کرنا ہوگا۔

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ عدیل الزبیر نے یہ بیان ویانا میں شام کے مسئلے پر ہونے والی بین الاقوامی بات چیت کے عین قبل دیا تھا۔

سعودی وزیرِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ بشارالاسد کو جانا ہوگا۔

’انھیں جانا ہے چاہے وہ سیاسی عمل کے ذریعے جائیں یا طاقت کے زور پر۔‘

اسی بارے میں