ترک سیاست میں عدم استحکام کے آثار

Image caption اتوار کے انتخابات میں ووٹ تو پڑ جائیں گے لیکن نتائج شاید جون سے زیادہ مختلف نہ ہوں

اتوار کو ترکی میں ایک بار پھر الیکشن ہورہے ہیں کیونکہ جون کے انتخابات کے بعد پارلیمان میں موجود چاروں میں سےکسی بھی جماعت کے پاس حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت نہیں تھی۔

پچھلے الیکشن میں تیرہ برس سے اکیلے برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ یا اے کے پارٹی اپنی پارلیمانی اکثریت کھو بیٹھی تھی اور مخلوط حکومت کی خاطر پارلیمان میں موجود باقی تینوں میں سے کسی جماعت کی حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوگئی تھی۔

عام لوگوں کی گفتگو اور مبصرین کے تجزیوں سے یہ صاف اشارے ملتے ہیں کہ اتوار کے انتخابات میں ووٹ تو پڑ جائیں گے لیکن نتائج شاید جون سے زیادہ مختلف نہ ہوں اور نئی پارلیمان میں بھی چار ہی ایسی جماعتیں ہوں جن کی آپس میں ذرا بھی نہ بنتی ہو۔

انقرہ یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے کچھ طلباء سے گفتگو بھی اسی جانب اشارہ کرہی تھی۔ اے کے پارٹی سے شاکی ایک طالب علم نے کہا کہ اُس کے خیال میں اے کے پارٹی اکیلے حکومت نہ بنا پائے گی اور اگر بنا لی تو بھی کوئی زیادہ کامیاب نہیں رہے گی۔

ایک دوسرے طالب علم نے ترکی کو درپیش سنگین چیلنجز کے حوالے سے رائے دی کہ ملک کو اقتصادی مشکلات سے بچانے کے لیے سی ایچ پی اور آک پارٹی کو مل کر حکومت بنانی چاہیے ورنہ اپریل میں نئے الیکشن کرانے پڑیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوبارہ الیکشن سے ترکی ایک ایسے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں غیریقینی کے زیادہ آثار ہیں

ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ووٹ ڈالیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کےخیال میں اکیلے آک پارٹی کی حکومت نہیں بنےگی اور یہ بھی کہ انھیں تو جون جیسے نتائج کی ہی توقع ہے۔

جون میں تیرہ برس اکیلے حکومت کرنے کے بعد جسٹس اور ڈیویلپمنٹ یا اے کے پارٹی نے حکومت سازی کے لیے صرف ریپبلکن جماعت سی ایچ پی سے مذاکرات کیے کیونکہ کرد نواز جماعت ایچ ڈی پی اور ترک قوم پرست ایم ایچ نے مخلوط حکومت بنانے سے صاف انکار کردیا تھا۔

سی ایچ پی اور اے کے پارٹی دونوں ایک دوسرے پر مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ داری عائد کرتی ہیں۔

ایسے میں اہم سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ اگر نتائج پچھلے الیکشن جیسے ہی رہے تو کیا تیسری مرتبہ بھی الیکشن ہوگا۔

ریپبلکن سیکیولر جماعت سی ایچ کہتی ہے کہ صدر اردوغان مخلوط حکومت نھیں چاہتے تھے اس لیے مذاکرات ناکام ہوگئے اور اب نئے انتخابات کے بعد عوامی دباؤ اے کے پارٹی پر ہوگا کہ وہ اکثریت کے حصول کے لیے مخلوط حکومت بنائے ناکہ اُس کے مخالفین پر۔

سی ایچ پی کے نائب صدر مراد اوزچیلک نے اپریل میں ایک اور الیکشن کی قیاس آرائیوں پر کہا کہ الیکشن کوئی مذاق نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اے کے پارٹی ایک اور انتخابات کی باتیں اس لیے کررہی تاکہ عوام پر اپنے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

دوسری جانب اے کے پارٹی ایسے الزامات کو قطعاً مسترد کرتی ہے اور بظاہر اُس کے سینیئر اہلکار اِس بار سادہ اکثریت کے لیے زیادہ پراعتماد بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اُس کے رہنما مخلوط حکومت کا امکان رد نہیں کررہے ہیں۔

پارٹی کے ایک ابھرتے ہوئے رہنما اور وزارت خارجہ کے مشیر احمد بیرات نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اتوار کے انتخابات میں بھی کسی جماعت کو اکثریت نہ ملی تو مخلوط حکومت بنے گی کیونکہ ایسا رزلٹ مخلوط حکومت کے لیے ترک عوام کی خواہش کا عکاس ہوگا اور اے کے پارٹی اس خواہش کا احترام کرے گی۔

دوبارہ الیکشن سے ترکی ایک ایسے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں ایک عشرے سے زیادہ کے سیاسی استحکام کے بعد غیریقینی اور تلاطم کے زیادہ آثار ہیں اور ترکوں کو فکر بھی اسی کی ہے۔

جون میں انتخابات کی کوریج کے لیے جب میں ترکی آیا تھا تو الیکشن کی ساری بحث صدر اردوغان کے سیاسی مستقبل کے گرد گھوم رہی تھی۔ لیکن چھ ماہ کے مختصر عرصے میں تواتر سے اتنے واقعات ترکی اور علاقائی سیاست میں پیش آئے ہیں کہ بات اب اُن کی ذات سے آگے بڑھ کر اِس نکتے پر مرکوز ہے کہ اتوار کے انتخابات ترکی کے اپنے مستقبل کے لیے کتنے زیادہ اہم ہیں۔

اسی بارے میں