سینا میں طیارہ دولتِ اسلامیہ نے نہیں گرایا، مصر کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تباہ ہونے والا طیارہ بحیرۂ احمر کے کنارے واقع سیاحتی مقام شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لیے روانہ ہوا تھا

روسی طیارے کے مصر میں جزیرہ نما سینا کے علاقے میں گر کر تباہ ہونے اور اس پر سوار تمام 224 افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں جانچ جاری ہے۔

مصر کے وزیر اعظم نے دولتِ اسلامیہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کی وجوہات میں تکنیکی وجہ زیادہ قرین قیاس ہیں۔

ادھر تین ایئرلائنز، امارات، ایئرفرانس اور لفتھانسا نے مزید تفصیلات آنے تک جزیرہ نما سینا کے اوپر سے پرواز نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روسی طیارہ مصر میں گر کر تباہ، 224 افراد ہلاک

مہلک ہوائی حادثے

روس اب تک کے سب سے تباہ کن طیارہ حادثے پر ایک دن کا سوگ منا رہا ہے۔

اس سے قبل مصر میں شہری ہوا بازی کے وزیر نے کہا تھا کہ جزیرہ نما سینا میں گرنے والے روسی مسافر طیارے کے پائلٹ نے ہنگامی صورتِ حال میں مدد مانگنے کا کوئی پیغام نہیں بھیجا تھا۔

روس کے بعد مصر کے حکام نے بھی شدت پسند دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ روسی مسافر طیارے کو اس کے جنگجوؤں نے نشانہ بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طیارے پر عملے کے سات ارکان کے علاوہ 217 مسافر سوار تھے جن میں سے تین کا تعلق یوکرین اور باقی کا روس سے تھا

سنیچر کو کوگلیماویا نامی کمپنی کا ایئر بس اے 321 طیارہ حسانا نامی صحرائی علاقے میں گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے وزیرِ اعظم شریف اسماعیل نے سنیچر کو رات گئے کہا کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا۔

تاہم ان ہی کی حکومت کے وزیر حسام کمال نے کہا ہے کہ طیارے میں کسی خرابی کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

سنیچر کی شام پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’تباہی تک ہمیں طیارے میں کسی خرابی کا علم نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں مدد کی ہنگامی کال ملی تھی۔‘

حکام نے طیارے کے دونوں بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر بھی تلاش کر لیا ہے اور اس حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

روسی صدر ولا دی میر پوتن کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کی قیادت میں تحقیقاتی کمیشن بھی اتوار کو مصر پہنچ رہا ہے۔

مصر سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات میں حکام نے کہا تھا کہ پائلٹ نے ٹیک آف کے بعد تکنیکی مسائل کے بارے میں بتایا تھا اور ہنگامی لینڈنگ کی اجازت مانگی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصری حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ طیارے کا ملبہ حسانا کے علاقے سے ملا

اس حادثے کے بعد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے یہ کہتے ہوئے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی کہ یہ شام میں روسی حملوں کا بدلہ ہے تاہم روسی حکام نے اس دعوے کو رد کر دیا تھا۔

روس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ میکسم سوکولوو نے اس دعوے کو غلط قرار دیا اور کہا ’ایسی اطلاعات کو درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔‘

عالمی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے پاس ایسے میزائل ہیں جو اتنی بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو نشانہ بنا سکیں۔

تاہم اس کے باوجود دو بڑی یورپی فضائی کمپنیوں لفتھانسا اور ایئر فرانس ، کے ایل ایم کے علاوہ الامارات نے بھی جزیرہ نما سینا کے اوپر سے پروازوں کا راستہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جب تک اس طیارے کی تباہی کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ جاتی ان کے طیارے اس علاقے پر پرواز نہیں کریں گے۔

روسی ایوی ایشن اتھارٹی روساویاتسیا کے مطابق طیارہ پرواز کے 23 منٹ بعد قبرص کے ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ مقررہ وقت پر رابطہ نہیں کر سکا اور 31 ہزار فٹ کی بلندی پر ریڈار سے غائب ہوگیا۔

روسی حکام کے مطابق طیارے پر عملے کے سات ارکان کے علاوہ 217 مسافر سوار تھے جن میں سے تین کا تعلق یوکرین اور باقی کا روس سے تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں