دنیا ترکی کے انتخابی نتائج کا احترام کرے: اردوغان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ترکی کی کرنسی لیِرا اور استنبول میں حصص کے بازار میں تیزی دیکھی گئی ہے

ترکی کے حالیہ انتخابات میں حکومتی جماعت جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی کامیابی کے بعد ترک صدر نے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کا احترام کرے۔

واضح رہے کہ ان انتخابات میں اے کے پی نے ایک بار پھر پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ حالیہ بدامنی کے بعد رائے دہندگان نے استحکام کا انتخاب کیا ہے۔

نتائج کے بعد فتح کا جشن: تصاویر

ترکی سیاست میں عدم استحکام کے آثار

ترک انتخابات اور معیشت کی بہتری کے وعدے

ترکی میں تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گئی ہے جس کے بعد سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کا کہنا ہے کہ اے کے پی 49.4 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوئی ہے جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعت سی ایچ پی کو 25.4 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ترکی کی کرنسی لیِرا اور استنبول میں حصص کے بازار میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں لِیرا کی قیمت میں چار فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ پیر کی صبح استنبول کے بازارِ حصص بازار بی آئی ایس ٹی انڈیکس میں پانچ فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پیر کی صبح صدر اردوغان نے کہا: ’یکم نومبر کو قومی رائے کا اظہار استحکام کے حق میں کر دیا گیا ہے۔ آئیے، ہم سب ایک ہو جائیں، ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن جائیں اور آپس میں مل کر ایک ترکی بن جائیں۔‘

انھوں نے میڈیا کی جانب سے خود پر کی جانے والی تنقید کو نشانہ بنایا اور انتخابی نتائج کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’ترکی میں ان کی جماعت کو اب 50 فیصد (ووٹوں) کے ساتھ اقتدار حاصل ہو گیا ہے، پوری دنیا کو اس کا احترام کرنا چاہیے لیکن مجھے اب تک ایسی (سیاسی) بلوغت کا مظاہرہ نظر نہیں آیا۔‘

خیال رہے کہ جون میں ہونے والے انتخابات میں صدر رجب طیب اردوگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس کے بعد سے اتحادی حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔

اسی بارے میں