ایک ماہ میں ریکارڈ تارکین وطن کی یورپ آمد

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں یورپ میں نقل مکانی کرنے والے تار کین وطن کی تعداد دو لاکھ اٹھارہ ہزار 394 تھی جو کہ سنہ 2014 میں یورپ آنے والے تار کینِ وطن کی تعداد کے برابر ہے۔

اکتوبر میں یورپ آنے والے تار کین وطن کی تعداد کسی ایک ماہ کے دوران سمندر کے راستے آنے والے تارکین کا نیا ریکارڈ ہے۔

پناہ گزین کی اموات:’یورپی یونین مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے‘

تارکینِ وطن کے لیے یورپی یونین کا 17 نکاتی معاہدہ

اقوام متحدہ کی تنظیم یو این ایچ سی آر کے مطابق یونان پہنچنے والوں کی تعداد 210,265 تھی جبکہ اٹلی پہنچنے والوں کی تعداد 8,129 تھی۔

ان میں سے زیادہ تر شام کے پناہ گزین ہیں۔ ترکی سے کشتیوں کے ذریعے یونان پہنچنے کی کوشش میں رواں ہفتے کم از کم 70 پناہ گزین ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

پیر کو چار افراد کی لاشیں بحیرۂ ایجیئن میں ان کی کشتی کے ڈوب جانے کے بعد ملیں۔

فارماکونیسی کے جزیرے کے قریب سات افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اتوار کو ساموس کے جزیرے کے قریب ایک الٹی ہوئی کشتی سے دس افراد کی لاشیں ملیں جن میں سے چھ بچے تھے۔ اس کے علاوہ ایک بچے کی لاش ساحل پر بھی ملی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال 3,440 افراد یورپ آنے کی کوشش میں بحیرۂ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوئے یا لاپتہ قرار دیے گئے ہیں۔

ہجرت کرنے سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ یونان کا سفر کرنے والوں میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کئی تارکینِِ وطن سمندر پار کرنے کے لیے سمگلنگ کرنے والے افراد کو بھاری رقم دیتے ہیں جو انھیں نامناسب کشتیاں فراہم کرتے ہیں۔

ترکی اور یونان کے درمیان سمندر کو پار کرنا ایک خطرناک کام ہے اور موسمی حالات کے بگڑنے سے بھی سمندر پار کرنے لوگوں کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

بیشتر تار کین وطن پناہ حاصل کرنے کی امید میں بلقان کے ذریعے جرمنی کا سفر کرتے ہیں۔

جرمنی میں رواں برس کم از کم آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کے آنے کی توقع ہے۔

اسی بارے میں